صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
254. (21) باب الأمر بتبكير صلاة العصر فى يوم الغيم، والتغليظ فى ترك صلاة العصر.
بادل والے دن نماز عصر جلدی پڑھنے کا حکم ہے، اور نماز عصر کو ترک کرنے پر سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 336
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، نا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا قِلابَةَ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ الْهُذَلِيَّ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، فَقَالَ: بَكِّرُوا بِالصَّلاةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ صَلاةَ الْعَصْرِ أُحْبِطَ عَمَلُهُ" . نا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ : بِهَذَا مِثْلَهُ، غَيْرُ أَنَّهُ قَالَ:" فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ"
حضرت ابوملیح ہذلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک ابر آلود دن میں جہاد میں تھے تو اُنہوں نے فرمایا کہ نماز (عصر) کو جلدی ادا کرلو، کیونکہ رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز عصر ترک کی اُس کے عمل ضائع کردئیے جاتے ہیں۔“ اما م صاحب حسین بن حریت کی سند مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کرتے ہیں کہ اس میں ان الفاظ کا فرق ہے۔ «فقد حبظ عمله» ”تو اس کے عمل رائیگاں گئے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 553، 594، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 336، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1463، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 473، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 363، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 694، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2124، 2125، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23423»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 336 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 336
فوائد:
➊ ان احادیث میں نمازِ عصر چھوڑنے اور ضائع کرنے کے بارے میں سخت وعید ہے، لہذا کسی بھی صورت نمازِ عصر سے غفلت نہیں برتنی چاہیے اور بہر صورت نمازِ عصر کو وقت پر ادا کرنا چاہیے۔
➋ ◈ حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں:
”مذکورہ احادیث کی بہترین توجیہہ یہ ہے کہ ان میں نمازِ عصر چھوڑنے کی سخت وعید ہے اور ظاہر معنی مراد نہیں ہے۔“ [فتح الباري: 2/ 444]
➊ ان احادیث میں نمازِ عصر چھوڑنے اور ضائع کرنے کے بارے میں سخت وعید ہے، لہذا کسی بھی صورت نمازِ عصر سے غفلت نہیں برتنی چاہیے اور بہر صورت نمازِ عصر کو وقت پر ادا کرنا چاہیے۔
➋ ◈ حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں:
”مذکورہ احادیث کی بہترین توجیہہ یہ ہے کہ ان میں نمازِ عصر چھوڑنے کی سخت وعید ہے اور ظاہر معنی مراد نہیں ہے۔“ [فتح الباري: 2/ 444]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 336]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 336 in Urdu
يحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن زيد الجرمي