صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
257. (24) بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَسْمِيَةِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ عِشَاءً، إِذِ الْعَامَّةُ أَوْ كَثِيرٌ مِنْهُمْ يُسَمُّونَهَا عِشَاءً.
نماز مغرب کو عشاء کا نام دینا منع ہے، جبکہ عام لوگ یا اکثر لوگ اسے عشاء کا نام دیتے ہیں
حدیث نمبر: 341
نا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاةِ الْمَغْرِبِ" . قَالَ: وَيَقُولُ الأَعْرَابُ: هِيَ الْعِشَاءُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ
سیدنا عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز مغرب کے نام کے بارے میں اعرابی تم پر ہرگز غالب نہ آجائیں“ فرماتے ہیں، اعرابی کہتے ہیں کہ وہ عشاء ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ مزنی، وہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 563، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 341، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1767، 1768، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20883»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 341 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 341
فوائد:
➊ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مغرب کو عشاء کہنا مکروہ ہے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کے دیے ہوئے نام کو کسی کی رائے کی وجہ سے ترک نہیں کیا جا سکتا۔ ** [شرح ابن بطال: 236/3] **
➋ ◈ شوکانی بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کی رو سے مغرب کو عشاء سے موسوم کرنا ممنوع ہے، جیسے دیہاتی لوگ مغرب کو عشاء سے موسوم کرتے تھے۔
چنانچہ اگر اس نام میں لوگ اعراب کے موافق ہو جاتے تو اس نام پر اعراب ان پر غالب آجاتے، کیونکہ فریقِ مخالف فریقین میں سے جو فریقِ ثانی کی طرف رجوع کرتا ہے تو رجوع کرنے والا مغلوب ہوتا ہے۔
اس نہی کی علت میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ چنانچہ ایک قول کے مطابق اس ممانعت کی علت مغرب اور عشاء کے التباس کا خوف ہے۔
ایک قول کے مطابق نہی کی علت یہ ہے کہ مغرب کو عشاء سے موسوم کرنا حکمِ الٰہی کی مخالفت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اول نماز (مغرب کو) مغرب سے اور عشاءِ ثانیہ کو عشاء سے موسوم کیا ہے۔ ** [نیل الأوطار: 10/2] **
➊ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مغرب کو عشاء کہنا مکروہ ہے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کے دیے ہوئے نام کو کسی کی رائے کی وجہ سے ترک نہیں کیا جا سکتا۔ ** [شرح ابن بطال: 236/3] **
➋ ◈ شوکانی بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کی رو سے مغرب کو عشاء سے موسوم کرنا ممنوع ہے، جیسے دیہاتی لوگ مغرب کو عشاء سے موسوم کرتے تھے۔
چنانچہ اگر اس نام میں لوگ اعراب کے موافق ہو جاتے تو اس نام پر اعراب ان پر غالب آجاتے، کیونکہ فریقِ مخالف فریقین میں سے جو فریقِ ثانی کی طرف رجوع کرتا ہے تو رجوع کرنے والا مغلوب ہوتا ہے۔
اس نہی کی علت میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ چنانچہ ایک قول کے مطابق اس ممانعت کی علت مغرب اور عشاء کے التباس کا خوف ہے۔
ایک قول کے مطابق نہی کی علت یہ ہے کہ مغرب کو عشاء سے موسوم کرنا حکمِ الٰہی کی مخالفت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اول نماز (مغرب کو) مغرب سے اور عشاءِ ثانیہ کو عشاء سے موسوم کیا ہے۔ ** [نیل الأوطار: 10/2] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 341]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 341 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← عبد الله بن مغفل المزني