صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
256. (23) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ،
نماز مغرب کے مؤخر کرنے پر سخت وعید کا بیان،
حدیث نمبر: 340
نا أَبُو زُرْعَةَ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطَرِ، مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي قَوْلِهِ:" لا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ، مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ" , دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، إِنَّمَا أَرَادَ وَقْتَ الْعُذْرِ وَالضَّرُورَةِ لا أَنْ يُتَعَمَّدَ تَأْخِيرُ صَلاةِ الْمَغْرِبِ إِلَى أَنْ تَقْرُبَ غَيْبُوبَةُ الشَّفَقِ، لأَنَّ اشْتِبَاكَ النُّجُومِ يَكُونُ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ بِوَقْتٍ طَوِيلٍ يُمْكِنُ أَنْ يُصَلَّى بَعْدَ اشْتِبَاكِ النُّجُومِ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ رَكَعَاتٌ كَثِيرَةٌ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ
سیدنا عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اُمّت ہمیشہ فطرت پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے جمگٹھے ہونے تک مؤخر نہ کریں۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”میری اُمّت ہمیشہ خیر و بھلائی کے ساتھ رہے گی جب تک وہ ستاروں کے باہم جڑ جانے تک نماز مغرب کو مؤخر نہ کریں“ میں یہ دلیل ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر و بن عا ص کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”نمازمغر ب کا وقت شفق کی تیزی اور پھیلاؤ ہونے تک رہتا ہے۔“ جمگٹھا شفق غائب ہونے سے بہت پہلے ہو جاتا ہے۔ ستاروں کے جمگھٹے کے بعد اور شفق کے غائب ہونے سے پہلے بہت سی رکعات، چار رکعات سے زیادہ ادا کی جا سکتی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 340، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 473، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 691، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1246، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 689، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2143، والبزار فى (مسنده) برقم: 1305، 1306، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1770، والطبراني فى (الصغير) برقم: 56»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 340 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 340
فوائد:
◈ ابن اثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”اشتباک النجوم“ سے مراد تمام ستاروں کا آسمان پر ظاہر ہونا اور جھلملاہٹ بنانا ہے اور یہ اندھیرا چھا جانے سے کنایہ ہے۔
نیز یہ احادیث دلیل ہیں کہ نمازِ مغرب کو جلد (یعنی اول وقت پر) ادا کرنا مستحب ہے۔
اور ستاروں کے جھمگٹا بننے تک مؤخر کرنا مکروہ فعل ہے، جب کہ رافضیوں نے اس سنت کے برعکس مؤخر اختیار کیا ہے اور انہوں نے ستاروں کے روشن ہونے تک نمازِ مغرب کے مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن احادیث الباب ان کے موقف کی تردید کرتی ہیں۔
اور جن احادیث میں نمازِ مغرب کو سقوطِ شفق تک مؤخر کرنے کا بیان ہے، ان میں یہ تاخیر بیانِ جواز کے لیے ہے (استحباب کے لیے نہیں)۔ [عون المعبود: 80/2]
◈ ابن اثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”اشتباک النجوم“ سے مراد تمام ستاروں کا آسمان پر ظاہر ہونا اور جھلملاہٹ بنانا ہے اور یہ اندھیرا چھا جانے سے کنایہ ہے۔
نیز یہ احادیث دلیل ہیں کہ نمازِ مغرب کو جلد (یعنی اول وقت پر) ادا کرنا مستحب ہے۔
اور ستاروں کے جھمگٹا بننے تک مؤخر کرنا مکروہ فعل ہے، جب کہ رافضیوں نے اس سنت کے برعکس مؤخر اختیار کیا ہے اور انہوں نے ستاروں کے روشن ہونے تک نمازِ مغرب کے مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن احادیث الباب ان کے موقف کی تردید کرتی ہیں۔
اور جن احادیث میں نمازِ مغرب کو سقوطِ شفق تک مؤخر کرنے کا بیان ہے، ان میں یہ تاخیر بیانِ جواز کے لیے ہے (استحباب کے لیے نہیں)۔ [عون المعبود: 80/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 340]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 340 in Urdu
الأحنف بن قيس التميمي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي