صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
258. (25) باب استحباب تأخير صلاة العشاء إذا لم يخف المرء الرقاد قبلها،
جب کسی آدمی کو نمازِ عشاء سے پہلے سو جانے کا خدشہ نہ ہو تو نمازِ عشاء کو مؤخر کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 344
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَلا نَدْرِي أَيُّ شَيْءٍ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ:" إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ" ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلاةَ فَصَلَّى
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تہائی رات گزر جانے کے بعد تشریف لائے۔ اور ہمیں معلوم نہیں کہ کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں یا کسی اور کام میں مشغول کر دیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم اس نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سوا کوئی مذہب والے اس کا انتظار نہیں کررہے۔ اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میری اُمّت پر گراں ہوگا تو میں اُنہیں (یہ نماز) اسی وقت پڑھاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذّن کو حُکم دیا تو اُس نے نماز کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 344]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 639، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 343، 344، 347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1099، 1536، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 536، وأبو داود فى (سننه) برقم: 199، 420، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2149، 2150، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4919»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 344 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي