صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
266. (33) بَابٌ فِي بَدْءِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ
اذان اور اقامت کی ابتداء کا بیان
حدیث نمبر: 361
نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلاةَ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَفَلا تَبْعَثُونَ رَجُلا يُنَادِي بِالصَّلاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا بِلالُ، فَنَادِ بِالصَّلاةِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ منورہ آئے تو وہ یونہی جمع ہو جاتے تو نماز کے لئے ایک وقت مقرر کر لیتے، اُنہیں کوئی بُلاتا نہیں تھا، پھر ایک دن اُنہوں نے اس سلسلے میں بات چیت کی تو اُن کے بعض افراد نے کہا کہ عیسائیوں کے گھنٹے جیسا گھنٹا بنالو، جبکہ بعض نے کہا کہ یہودیوں کے نرسنگے جیسا نرسنگا بنالو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کا اعلان کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال، اُٹھو نماز کے لئے اعلان کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 604، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 377، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 361، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 625، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1603، والترمذي فى (جامعه) برقم: 190، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1863، 1870، 1955، والدارقطني فى (سننه) برقم: 911، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6468، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 1776»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 361 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 361
فوائد:
➊ اس حدیث میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت کا بیان ہے کہ اذان کی مشاورت کے بارے میں ان کی رائے درست تھی۔
➋ اہم امور میں مشاورت مستحب عمل ہے۔
➌ ◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مشورہ کہ ایک شخص مقرر کیجئے جو نماز کے وقت سے آگاہ کرے، اس اعلام میں شرعی اذان کے الفاظ نہیں تھے، بلکہ مطلق نماز کے وقت سے آگاہ کرنا تھا اور عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ کی شرعی اذان کا واقعہ اس مشاورت کے بعد کا قصہ ہے۔“ [شرح صحيح مسلم للنووي: 75/4]
➊ اس حدیث میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت کا بیان ہے کہ اذان کی مشاورت کے بارے میں ان کی رائے درست تھی۔
➋ اہم امور میں مشاورت مستحب عمل ہے۔
➌ ◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مشورہ کہ ایک شخص مقرر کیجئے جو نماز کے وقت سے آگاہ کرے، اس اعلام میں شرعی اذان کے الفاظ نہیں تھے، بلکہ مطلق نماز کے وقت سے آگاہ کرنا تھا اور عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ کی شرعی اذان کا واقعہ اس مشاورت کے بعد کا قصہ ہے۔“ [شرح صحيح مسلم للنووي: 75/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 361]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 361 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي