یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
272. (39) باب ذكر الخبر المفسر للفظة المجملة التى ذكرتها، والدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما أمر بأن يشفع بعض الأذان لا كلها، وأنه إنما أمر بأن يوتر بعض الإقامة لا كلها،
گذشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کلمات اذان کو دہرے کہنے کا حکم دیا ہے سارے کلمات نہیں
حدیث نمبر: 372
قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: لَيْسَ فِي أَخْبَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ فِي قِصَّةِ الأَذَانِ خَبَرٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا، لأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ
جناب محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدﷲ بن زید کے قِصّہ اذان کی روایات میں اس سے زیادہ صحیح روایت اور کوئی نہیں کیونکہ محمد بن عبدﷲ بن زید نے اسے اپنے والد محترم (سیدنا عبداللہ بن زید) سے سنا ہے۔ اور عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے سیدنا عبداللہ بن زید سے اس روایت کو نہیں سنا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 372]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1705، 18200، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 372»
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 372 in Urdu