🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
274. ‏(‏41‏)‏ باب الترجيع فى الأذان مع تثنية الإقامة،
دوہری اقامت کے ساتھ اذان میں ترجیع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q377
وَهَذَا مِنْ جِنْسِ اخْتِلَافِ الْمُبَاحِ، فَمُبَاحٌ أَنْ يُؤَذِّنَ الْمُؤَذِّنُ فَيُرَجِّعَ فِي الْأَذَانِ وَيُثَنِّيَ الْإِقَامَةَ، وَمُبَاحٌ أَنْ يُثَنِّيَ الْأَذَانَ وَيُفْرِدَ الْإِقَامَةَ، إِذْ قَدْ صَحَّ كِلَا الْأَمْرَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا تَثْنِيَةُ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَلَمْ يَثْبُتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَمْرُ بِهِمَا
یہ مباح اختلاف کی جنس سے ہے۔ مؤذّن کے لیے مباح ہے کہ وہ اذان میں ترجیع کرلے اور اقامت دوہری کہے اور یہ بھی مباح ہے کہ اذان دوہری کہے اور اقامت اکہری کہے۔ کیونکہ دونوں عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں لیکن دوہری اذان اور دوہری اقامت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q377]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 377
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ رَجُلا، فَأَذَّنُوا، فَأَعْجَبَهُ صَوْتُ أَبِي مَحْذُورَةَ، فَعَلَّمَهُ الأَذَانُ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَعَلَّمَهُ الإِقَامَةَ مَثْنَى"
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباََ بیس آدمیوں کو اذان کہنے کا حُکم دیا، اُنہوں نے اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی آواز پسند آئی، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اذان سکھائی، «‏‏‏‏اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» ‏‏‏‏ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے «‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ،» ‏‏‏‏ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں «‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰه، أَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰه» ‏‏‏‏ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں «‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ‏‏‏‏ نماز کی طرف آؤ، نماز کے لئے آؤ «‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ‏‏‏‏ کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ «‏‏‏‏اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» ‏‏‏‏ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) «‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ‏‏‏‏ اللہ کے سوا کوئِی معبود برحق نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اقامت دوہری سکھائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 379، وابن الجارود فى "المنتقى"، 180، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 377، 378، 379، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1680، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 628، وأبو داود فى (سننه) برقم: 500، والترمذي فى (جامعه) برقم: 191، 192، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 708، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1876، والدارقطني فى (سننه) برقم: 901، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15612»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو محذورة القرشي، أبو محذورةصحابي
👤←👥عبد الله بن محيريز الجمحي، أبو محيريز
Newعبد الله بن محيريز الجمحي ← أبو محذورة القرشي
ثقة
👤←👥مكحول بن أبي مسلم الشامي، أبو مسلم، أبو عبد الله، أبو أيوب
Newمكحول بن أبي مسلم الشامي ← عبد الله بن محيريز الجمحي
ثقة فقيه كثير الإرسال
👤←👥عامر الأحول
Newعامر الأحول ← مكحول بن أبي مسلم الشامي
صدوق حسن الحديث
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← عامر الأحول
ثقة
👤←👥سعيد بن عامر الضبعي، أبو محمد
Newسعيد بن عامر الضبعي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← سعيد بن عامر الضبعي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 377 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 377
فوائد:
➊ ◈ نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ یہ (احادیث) شافعی، مالک، احمد، اور جمہور علما رحمہم اللہ کے موقف کی واضح دلیل ہیں کہ ترجیع والی اذان مشروع و مسنون ہے اور ترجیع یہ ہے کہ شہادتین کے کلمات دو دو مرتبہ آہستہ آواز سے، پھر انہیں دوبارہ بلند آواز سے ادا کیا جائے۔
لیکن ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور اہل کوفہ کا مذہب ہے کہ عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ کی اذان کی رو سے ترجیع والی اذان غیر مشروع ہے کیونکہ عبد اللہ بن زید کی اذان میں ترجیع کا ذکر نہیں۔
جمہور علما کی دلیل (مذکورہ احادیث الباب) ہیں اور مذکورہ طریقہ اذان میں کلماتِ اذان کا اضافہ مقدم ہے۔
باوجود اس کے کہ حدیثِ ابومحذورہ، حدیثِ عبد اللہ بن زید سے متاخر ہے، کیونکہ حدیثِ ابومحذورہ غزوہ حنین کے بعد آٹھ ہجری کا واقعہ ہے اور حدیثِ عبد اللہ آغازِ ہجری کا واقعہ ہے، اس پر طرہ اہل مکہ، اہل مدینہ اور تمام بلادِ اسلام کا حدیثِ ابی محذورہ پر عمل بھی ہے۔ [شرح النووي: 80/4]
➋ ◈ شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: حق بات یہ ہے کہ اذانِ ترجیع والی احادیث راجح ہیں کیونکہ یہ اضافی کلمات پر مشتمل ہیں اور حدیثِ عبد اللہ کے منافی نہ ہونے اور صحت کے اعتبار سے یہ اضافی کلمات مقبول بھی ہیں۔
(لہذا ترجیع والی اذان پر عمل مستحب اور افضل ہے)۔ [نيل الأوطار: 38/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 377]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 377 in Urdu