🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
278. ‏(‏45‏)‏ بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَرَفْعِ الصَّوْتِ بِهِ وَشَهَادَةِ مَنْ يَسْمَعُهُ مِنْ حَجَرٍ وَمَدَرٍ وَشَجَرٍ وَجِنٍّ وَإِنْسٍ لِلْمُؤَذِّنِ
اذان اور بلند آواز سے اذان دینے کی فضیلت نیز موَذّن کی اذان سننے والے پتھر ڈھیلے، درخت، جن اور انسانوں کی موَذّن کے لیے گواہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 389
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : إِذَا كُنْتَ فِي الْبَوَادِي، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يَسْمَعُ صَوْتَهُ شَجَرٌ، وَلا مَدَرٌ، وَلا حَجَرٌ، وَلا جِنٌّ، وَلا إِنْسٌ إِلا شَهِدَ لَهُ" . وَقَالَ مَرَّةً: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، وَكَانَتْ أُمُّهُ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ
عبدالرحمان بن ابی صعصعہ، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، جب تم جنگلوں میں ہو تو اذان بلند آواز سے دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”مؤذن کی آواز جو بھی درخت ڈھیلے، پتھر، جنّ اور انسان سُنتے ہیں وہ اُس کے لیے گواہی دیں گے۔“ مرہ کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ابی صعصعہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی اور وہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے زیر کفالت یتیم تھے جبکہ اُن کی والدہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس (بیوی کی حیثیت سے) تھیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 609، 3296، 7548، ومالك فى (الموطأ) برقم: 222، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 389، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1661، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 643، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 723، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1891، 2040، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11188»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري
Newعبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر
Newعبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 389 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 389
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ مؤذن کی اذان سننے والی تمام مخلوقات قیامت کے دن مؤذن کے حق میں گواہی دیں گی، جو مؤذن کے لیے بہت بڑی فضیلت ہے۔
لہٰذا اس فریضہ کی ادائیگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، بالخصوص خوش الحان لوگ اذان کی ذمہ داری کا ادراک کریں۔
➋ ◈ توربشتی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس شہادت سے مراد یہ ہے کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ مشہود لہ (مؤذن) کی فضیلت اور بلندیِ درجات کی مخلوقات کے سامنے تشہیر کریں گے۔
یعنی جیسے شہادت کے ذریعے بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کریں گے، اسی طرح کچھ لوگوں کو گواہی کے ذریعے اکرام و تکریم سے نوازیں گے۔ ** [فتح الباري: 118/2] **
➌ بآواز بلند اذان کہنا مشروع و مستحب فعل ہے۔
چنانچہ اذان کی آواز جتنی دور جائے گی، اس کی نیکیوں میں اتنا اضافہ اور گناہوں میں اتنی ہی تخفیف ہو گی۔
نیز اذان میں آواز کا بلند ہونا شیطان کے لیے اتنا ہی زیادہ تکلیف کا باعث ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 389]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 389 in Urdu