صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
284. (51) بَابُ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ وَإِنْ كَانَ الْمَرْءُ وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ جَمَاعَةٌ وَلَا وَاحِدٌ طَلَبًا لِفَضِيلَةِ الْأَذَانِ
اذان کی فضیلت واجر حاصل کرنے کے لیے سفر میں اذان دینے کا بیان
حدیث نمبر: 400
نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الْعَلِيُّ ، نا بَهْزٌ يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ، وَإِلا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلا، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ:" عَلَى الْفِطْرَةِ"، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، قَالَ:" خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِذَا كَانَ الْمَرْءُ يَطْمَعُ بِالشَّهَادَةِ بِالتَّوْحِيدِ لِلَّهِ فِي الأَذَانِ، وَهُوَ يَرْجُو أَنْ يُخَلِّصَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ بِالشَّهَادَةِ بِاللَّهِ بِالتَّوْحِيدِ فِي أَذَانِهِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُؤْمِنٍ أَنْ يَتَسَارَعَ إِلَى هَذِهِ الْفَضِيلَةِ طَمَعًا فِي أَنْ يُخَلِّصَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ، خَلا فِي مَنْزِلِهِ أَوْ فِي بَادِيَةٍ أَوْ قَرْيَةٍ أَوْ مَدِينَةٍ، طَلَبًا لِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ، وَقَدْ خَرَّجْتُ أَبْوَابَ الأَذَانِ فِي السَّفَرِ أَيْضًا فِي مَوَاضِعَ غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ، فِي نَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمْرُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالا بِالأَذَانِ لِلصُّبْحِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِ تِلْكَ الصَّلاةِ، وَتِلْكَ الأَخْبَارُ أَيْضًا خِلافُ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنْ لا يُؤَذَّنَ لِلصَّلاةِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِهَا، وَإِنَّمَا يُقَامُ لَهَا بِغَيْرِ أَذَانٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت (دشمن کی بستیوں پر) حملہ آور ہوتے تھے پھر اگر اذان کی آواز سن لیتے تو (حملہ کرنے سے) رُک جاتے (اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو) حملہ کر دیتے۔ چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا: «اللہُ أَکبَرُ، اللہُ أَکبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فطرتِ اسلام پر ہے۔“ تو اُس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”توجہنّم کی آگ سے نجات پا گیا۔“ اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کواذان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعلان و گواہی دینے کی خواہش ہو اور وہ امید رکھتا ہو کہ اس کی اذان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دینے سے اللہ تعالیٰ اٗسے جہنّم کی آگ سے نجات عطا فرمائیں گے تو ہر مومن کو اس خواہش اور تمنّا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اُس کو آگ سے نجات دے دیں گے، اس فضیلت کے حُصول میں سبقت کرنی چاہیے۔ وہ اپنے گھر میں تنہا ہو یا جنگل میں یا بستی وشہر میں اکیلا ہو، اس فضلیت واجر کو حاصل کرنے کے لئے (اُسے اذان دینی چاہیے) میں نے اس جگہ کے علاوہ بھی کئی مقامات پر سفر میں اذان کے ابواب کو بیان کیا ہے (مثلاً) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صبح کی نماز سے سوئے رہ جانا حتیٰ کہ سورج طلوع ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کوصبح کی نماز کی اذان دینے کا حُکم دینا جبکہ اُس کا وقت ختم ہوچکا تھا۔ یہ احادیث اُن لوگوں کے قول کے برعکس ہیں اُن کا دعویٰ ہے کہ نماز کا وقت ختم ہو جانے کے بعد اُس کے لیے اذان نہیں دی جائے گی بلکہ بغیر اذان کے صرف اقامت کہی جائے گی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 400]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 371، 610، 947، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 382، وابن الجارود فى "المنتقى"، 667، 781، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 351، 400، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4091، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2210، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 69، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2054، 2634، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1115، 1550، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1957، 2272، 3196، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1933، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3741، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12138»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥بهز بن أسد العمي، أبو الأسود بهز بن أسد العمي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن عثمان الثقفي، أبو صفوان، أبو عبد الله محمد بن عثمان الثقفي ← بهز بن أسد العمي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 400 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 400
فوائد:
➊ منفرد شخص کا نماز کے لیے اذان کہنا مشروع ہے اور یہی راجح موقف ہے۔
➋ جس علاقے میں اذان ہو وہاں حملہ کرنا ممنوع ہے، کیونکہ یہ فعل اہل علاقہ کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے۔
➌ شہادتین کے قول و اقرار سے انسان مسلمان ہو جاتا ہے، خواہ اس سے یہ مطالبہ نہ ہی کیا جائے۔ [شرح النووي: 83/4]
➊ منفرد شخص کا نماز کے لیے اذان کہنا مشروع ہے اور یہی راجح موقف ہے۔
➋ جس علاقے میں اذان ہو وہاں حملہ کرنا ممنوع ہے، کیونکہ یہ فعل اہل علاقہ کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے۔
➌ شہادتین کے قول و اقرار سے انسان مسلمان ہو جاتا ہے، خواہ اس سے یہ مطالبہ نہ ہی کیا جائے۔ [شرح النووي: 83/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 400]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 400 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري