صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
285. (52) باب إباحة الأذان للصبح قبل طلوع الفجر
طلوع فجر سے پہلے نماز صبح کی اذان دینا جائز ہے
حدیث نمبر: Q401
إِذَا كَانَ لِلْمَسْجِدِ مُؤَذِّنَانِ لَا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ، فَيُؤَذِّنُ أَحَدُهُمَا قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، وَالْآخَرُ بَعْدَ طُلُوعِهِ بِذِكْرِ خَبَرٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ.
جبکہ مسجد کے ایک کی بجائے دو مؤذن ہوں،اور ان میں سے ایک طلوع فجر سے پہلے اذان دے اور دوسرا طلوع فجر کے بعد اذان کہے،اس سلسلے میں مذکورہ مجمل غیر مفسر روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q401]
حدیث نمبر: 401
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ بِقَوْلٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ" . نا بِهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، وَقَالَ فِي كُلِّهَا: عَنْ، عَنْ
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے باپ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتے ہیں توتم (روزہ رکھنے کے لئے) کھاؤ پیو حتیٰ کہ تم ابن اُم مکتوم کی اذان سُنو۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ نے اپنے استاد مخزومی سے بھی روایت کی ہے، اس سند میں تمام جگہ «عن» سے روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 401]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 617، 620، 1918، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 380، ومالك فى (الموطأ) برقم: 242، وابن الجارود فى "المنتقى"، 181، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 401، 424، 1931، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3469، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 636، والترمذي فى (جامعه) برقم: 203، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1816، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4640»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 401 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 401
فوائد:
➊ طلوع فجر سے قبل صبح کی اذان دینا جائز ہے۔
➋ (رمضان میں) طلوع فجر تک کھانا پینا اور جماع وغیرہ کرنے کا جواز ہے۔
➌ نابینا شخص کا اذان کہنا جائز ہے۔ شافعیہ کہتے ہیں: نابینا کی اذان جائز ہے لیکن اگر اس کے ساتھ کوئی بینا شخص ہو۔
جیسے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ نابینا شخص کے اذان کہنے میں کراہت نہیں ہے اور اگر اس کے ساتھ کوئی صاحب بصارت شخص نہ ہو تو وقت کی غلطی کے خوف کی وجہ سے نابینا شخص کا اذان کہنا مکروہ ہے۔
➍ فجر کی دو اذانیں ہیں: 1 طلوع فجر سے قبل اور 2 طلوع فجر کے بعد کہنا مستحب ہے۔
➎ مؤذن کی اذان پر اعتماد کرنا درست ہے۔ [شرح النووي: 207/1]
➊ طلوع فجر سے قبل صبح کی اذان دینا جائز ہے۔
➋ (رمضان میں) طلوع فجر تک کھانا پینا اور جماع وغیرہ کرنے کا جواز ہے۔
➌ نابینا شخص کا اذان کہنا جائز ہے۔ شافعیہ کہتے ہیں: نابینا کی اذان جائز ہے لیکن اگر اس کے ساتھ کوئی بینا شخص ہو۔
جیسے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ نابینا شخص کے اذان کہنے میں کراہت نہیں ہے اور اگر اس کے ساتھ کوئی صاحب بصارت شخص نہ ہو تو وقت کی غلطی کے خوف کی وجہ سے نابینا شخص کا اذان کہنا مکروہ ہے۔
➍ فجر کی دو اذانیں ہیں: 1 طلوع فجر سے قبل اور 2 طلوع فجر کے بعد کہنا مستحب ہے۔
➎ مؤذن کی اذان پر اعتماد کرنا درست ہے۔ [شرح النووي: 207/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 401]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 401 in Urdu
سعيد بن عبد الرحمن القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي