صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
287. (54) بَابُ ذِكْرِ قَدْرِ مَا كَانَ بَيْنَ أَذَانِ بِلَالٍ وَأَذَانِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
سیدنا بلال اور ابن اُم مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کے درمیان وقفے کا بیان
حدیث نمبر: 403
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلا قَدْرُ مَا يَرْقَى هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا
سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بلال رضہ اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں، تو تم (روزے کے لئے) کھاتے پیتے رہو حتیٰ کہ ابن مکتُوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ اور ان دونوں اذانوں کے درمیان صرف اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ یہ (اذان دینے کے لیے چڑھ جائیں اور وہ اُتر آئیں۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 403]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 622، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 380، ابن الجارود فى "المنتقى"، 182، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 403، 406، 407، 408، 1932، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3473، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 638، وأبو داود فى (سننه) برقم: 535، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1822، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24802»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 403 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 403
فوائد:
➊ فجر کی دو اذانیں کہنا اور ان کے لیے دو مؤذن مقرر کرنا مشروع ہے۔
➋ فجر کی دونوں اذانوں میں بہت زیادہ وقفہ نہیں ہونا چاہیے۔
بلکہ اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ تہجد وغیرہ پڑھنے والا شخص اپنی نماز سمیٹ لے، یعنی وتر وغیرہ پڑھ لے۔
اور جو خوابیدہ لوگ غسل، وضو اور دیگر حاجاتِ ضروریہ سے فراغت حاصل کر کے نمازِ فجر باجماعت ادا کر سکیں، دونوں اذانوں میں گھنٹے، دو گھنٹے کے وقفے سے یہ مقصود فوت ہو جاتا ہے۔
بلکہ اذان سن کر بیدار ہونے والے مزید سست ہو جاتے ہیں اور کئی لوگوں کی نمازِ باجماعت چھوٹ جاتی ہے۔
لہٰذا مسنون طریقے پر عمل کرنے ہی میں فلاح و برکت ہے۔
➊ فجر کی دو اذانیں کہنا اور ان کے لیے دو مؤذن مقرر کرنا مشروع ہے۔
➋ فجر کی دونوں اذانوں میں بہت زیادہ وقفہ نہیں ہونا چاہیے۔
بلکہ اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ تہجد وغیرہ پڑھنے والا شخص اپنی نماز سمیٹ لے، یعنی وتر وغیرہ پڑھ لے۔
اور جو خوابیدہ لوگ غسل، وضو اور دیگر حاجاتِ ضروریہ سے فراغت حاصل کر کے نمازِ فجر باجماعت ادا کر سکیں، دونوں اذانوں میں گھنٹے، دو گھنٹے کے وقفے سے یہ مقصود فوت ہو جاتا ہے۔
بلکہ اذان سن کر بیدار ہونے والے مزید سست ہو جاتے ہیں اور کئی لوگوں کی نمازِ باجماعت چھوٹ جاتی ہے۔
لہٰذا مسنون طریقے پر عمل کرنے ہی میں فلاح و برکت ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 403]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 403 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق