صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
288. (55) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – [يَرَى] بَعْضُ أَهْلِ الْجَهْلِ أَنَّهُ يُضَادُّ هَذَا الْخَبَرَ الَّذِي ذَكَرْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ
اس رویت کا بیان جسے بعض جہلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے کہ وہ اِس روایت کے مخالف ہے جو ہم نے بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں
حدیث نمبر: 404
نا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، وَإِذَا أَذَّنَ بِلالٌ فَلا تَأْكُلُوا وَلا تَشْرَبُوا" ، فَإِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنَّا لَيَبْقَى عَلَيْهَا شَيْءٌ مِنْ سُحُورِهَا، فَتَقُولُ لِبِلالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرَغَ مِنْ سُحُورِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا خَبَرٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَوْ بِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ
حضرت خبیب بن عبدالرحمٰن اپنی پُھوپی سیدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ابن اُم مکتُوم رضی اللہ عنہ اذان دیں تو کھاؤ، پیو اور جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیں تو مت کھاؤ پیو۔“ لہٰذا اگر ہم میں سے کسی عورت کی سحری میں سے کچھ باقی رہ جاتا تو وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہتی کہ ذرا ٹھہریں تاکہ میں اپنی سحری سے فارغ ہو جاؤں۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کے بیان میں خبیب بن عبدالرحمٰن سے اختلاف کیا گیا ہے۔ امام شعبہ نے ان کی پُھوپھی سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا تو کہا کہ ابن مکتُوم یا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 404، 405، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3474، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 639، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1823، 1824، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28082»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 404 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 404
فوائد:
یہ احادیث بظاہر گزشتہ احادیث کے متعارض معلوم ہوتی ہیں، کیونکہ گزشتہ احادیث میں مذکور ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ فجر کی پہلی اذان اور عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ فجر کی دوسری اذان کہتے تھے، جبکہ احادیثِ باب میں مذکور ہے کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذانِ اول اور بلال رضی اللہ عنہ اذانِ ثانی کہتے تھے۔
ان احادیث میں تطبیق کی دو توجیہات بیان کی گئی ہیں:
➊ عبداللہ بن ام مکتوم اور بلال رضی اللہ عنہما میں باری مقرر تھی، چنانچہ کبھی بلال رضی اللہ عنہ اور کبھی عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ پہلی اذان کہتے اور کبھی دوسری اذان کہتے تھے۔
➋ شروع میں بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان کہتے رہے، پھر مستقل ان کی ذمہ داری دوسری اذان کہنے پر ہی لگا دی گئی اور وہ ہمیشہ دوسری اذان ہی کہتے رہے۔
یہ احادیث بظاہر گزشتہ احادیث کے متعارض معلوم ہوتی ہیں، کیونکہ گزشتہ احادیث میں مذکور ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ فجر کی پہلی اذان اور عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ فجر کی دوسری اذان کہتے تھے، جبکہ احادیثِ باب میں مذکور ہے کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذانِ اول اور بلال رضی اللہ عنہ اذانِ ثانی کہتے تھے۔
ان احادیث میں تطبیق کی دو توجیہات بیان کی گئی ہیں:
➊ عبداللہ بن ام مکتوم اور بلال رضی اللہ عنہما میں باری مقرر تھی، چنانچہ کبھی بلال رضی اللہ عنہ اور کبھی عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ پہلی اذان کہتے اور کبھی دوسری اذان کہتے تھے۔
➋ شروع میں بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان کہتے رہے، پھر مستقل ان کی ذمہ داری دوسری اذان کہنے پر ہی لگا دی گئی اور وہ ہمیشہ دوسری اذان ہی کہتے رہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 404]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 404 in Urdu
خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري ← أنيسة بنت خبيب الأنصارية