صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
294. (61) باب استحباب الدعاء عند الأذان ورجاء إجابة الدعوة عنده.
اذان کے وقت دعا مانگنے کے استحباب اور اس وقت دعا کی قبولیت کی امید کا بیان
حدیث نمبر: 419
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اثْنَتَانِ لا تُرَدَّانِ، أَوْ قَلَّ مَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يَلْتَحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا"
سیدنا سہل بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا وہ بہت کم رد کی جاتی ہیں، اذان کے وقت کی گئی دعا اور جنگ کے وقت جب وہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 419]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 224، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1143، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 419، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1720، 1764، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 724، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2540، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1969»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 419 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 419
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ اذان اور اقامت کا درمیانی وقت اور دشمن سے مڈبھیڑ اور گراؤ کا وقت دعا کی قبولیت کے اوقات ہیں۔
➋ لہٰذا ان اوقات میں خوب دعائیں کرنی چاہییں۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ اذان اور اقامت کا درمیانی وقت اور دشمن سے مڈبھیڑ اور گراؤ کا وقت دعا کی قبولیت کے اوقات ہیں۔
➋ لہٰذا ان اوقات میں خوب دعائیں کرنی چاہییں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 419]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 419 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي