یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
300. (67) باب ذكر الصلاة كانت إلى بيت المقدس قبل هجرة النبى صلى الله عليه وسلم إلى المدينة، إذ القبلة فى ذلك الوقت بيت المقدس لا الكعبة
اس نماز کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت سے پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی جاتی تھی کیونکہ اس وقت قبلہ بیت المقد س تھا، کعبہ نہیں تھا
حدیث نمبر: 429
نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَ مِنْ أَعْلَمِ الأَنْصَارِ، حَدَّثَنِي، أَنَّ أَبَاهُ كَعْبًا ، حَدَّثَهُ، وَخَبَرُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فِي خُرُوجِ الأَنْصَارِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فِي بَيْعَةِ الْعَقَبَةِ، وَذَكَرَ فِي الْخَبَرِ أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي خَرَجْتُ فِي سَفَرِي هَذَا وَقَدْ هَدَانِي اللَّهُ لِلإِسْلامِ، فَرَأَيْتُ أَلا أَجْعَلَ هَذِهِ الْبِنْيَةَ مِنِّي بِظَهْرٍ، فَصَلَّيْتُ إِلَيْهَا، وَقَدْ خَالَفَنِي أَصْحَابِي فِي ذَلِكَ حَتَّى وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَمَاذَا تَرَى؟ قَالَ:" قَدْ كُنْتَ عَلَى قِبْلَةٍ لَوْ صَبَرْتَ عَلَيْهَا" ، قَالَ: فَرَجَعَ الْبَرَاءُ إِلَى قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى مَعَنَا إِلَى الشَّامِ
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے انصار کے سب سے بڑے عالم حضرت معبد بن کعب بن مالک نے حدیث بیان کی کہ انہیں ان کے والد محترم سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے انصار کے مدینہ منوّرہ سے مکّہ مکرمہ بیعت عقبہ کے لئے جانے کی خبر بیان کی اور اس خبر میں یہ بھی بتایا کہ سیدنا براﺀ بن معرور رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں اس سفر میں نکلا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ہدایت نصیب فرمائی تو میں نے یہ خیال کیا کہ میں اس عمارت (کعبہ شریف) کی طرف اپنی پشت نہیں کروں گا، لہٰذا میں نے اس کی طرح مُنہ کر کے نماز پڑھی ہے اور میرے ساتھیوں نے اس میں میری مخالفت کی ہے حتیٰ کہ میں نے اسے بُرا محسوس کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میں ایک قبلہ پر ہوں (اس کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھ رہا ہوں) اگر تم اسی پر صبر کرو تو بہتر ہے۔“ کہتے ہیں کہ لہٰذا سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی طرف رجوع کر لیا اور ہمارے ساتھ شام (بیت المقدس) کی طرف مُنہ کر کے نمازادا کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 429، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7011، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5134، 5563، 5917، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16040، والطبراني فى(الكبير) برقم: 4453، 5354، 5402، 5418، 174، 201»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 429 in Urdu
محمد بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري