صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
304. (71) باب النهي عن التشبيك بين الأصابع عند الخروج إلى الصلاة.
نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہوئے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا منع ہے
حدیث نمبر: 442
وَرَوَاهُ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ، وَنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ قَالَ: لَقِيتُ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ وَأَنَا أُرِيدُ الْجُمُعَةَ، وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ ضَرَبَ يَدَيَّ فَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِي، وَقَالَ: «إِنَّا نُهِينَا أَنْ يُشَبِّكَ أَحَدٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الصَّلَاةِ» ، قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ فِي صَلَاةٍ قَالَ: أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ وَأَنْتَ تُرِيدُ الْجُمُعَةَ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: «فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ»
حضرت ابوثمامہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ملا جبکہ میں جمعہ کے لئے جا رہا تھا اور میں نے اپنی اُنگلیاں ایک دوسری میں ڈالی ہوئی تھیں۔ پھر جب میں قریب ہوا تو اُنہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا اور میری اُنگلیوں کو جدا کر دیا اور فرمایا کہ بلاشبہ ہمیں اس سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شخص نماز میں اپنی اُنگلیاں ایک دوسری میں ڈالے۔ میں نےعرض کی کہ میں (ابھی) نماز میں نہیں ہوں۔ اُنہوں نے فرمایا تو کیا تم نے وضو نہیں کیا اور کیا تم جمعہ کا ارادہ نہیں رکھتے؟ میں نے کہا کہ ہاں (یہ بات تو ہے) تو اُنہوں نے فرمایا کہ تو پھر تم نماز ہی میں ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح