صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
306. (73) بَابُ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ لِلصَّلَاةِ.
نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 451
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَرَدْتُمْ أَنْ تَحَوَّلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟"، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ:" يَا بَنِي سَلِمَةَ، دِيَارَكُمْ تَكْتُبُ آثَارَكُمْ"، قَالَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ . قَدْ خَرَّجْتُ بَابَ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي كِتَابِ الإِمَامَةِ بِتَمَامِهِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی کے پاس کچھ علاقہ خالی ہوگیا تو بنی سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے ارادے کی اطلاع ہوئی تو فرمایا: ”اے بنی سلمہ، کیا تم نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا ہے؟“ اُنہوں نے عرض کی کہ جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی سلمہ، اپنے گھروں ہی میں ٹھہرے رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“ (یعنی پیدل چل کر مسجد آنے کا ثواب لکھا جاتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ میں نے مساجد کی طرف چل کرجانے کا مُکمّل باب کتاب الامامۃ میں بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 451]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 664، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 451، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2042، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14790، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 6060»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 451 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 451
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز کے لیے پیدل چل کر آنے اور واپس جانے والے نمازی حضرات کو اجر و ثواب ملتا ہے اور جو شخص نماز کے لیے جتنی دور سے آئے اسے اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے۔
❀ جو شخص مسجد کی طرف پیدل چلتا ہے، تو اس کے دونوں قدموں میں سے ایک قدم گناہ مٹاتا اور دوسرا قدم درجہ بلند کرتا ہے۔ [صحيح مسلم: 666]
➋ لہٰذا مساجد کے قریب رہائش اختیار کرنے کے بجائے مساجد سے دور رہائش اختیار کرنا افضل ہے، مگر یہ اس وقت ہے جب کوئی شخص نماز باجماعت مسجد میں ادا کرتا ہو۔
مسجد سے دور ہونے کی وجہ سے اگر کسی کی جماعت چھوٹ جاتی ہو تو اس صورت میں نماز باجماعت پانے کے لیے مسجد کے قریب رہائش اختیار کرنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ جلبِ منفعت پر دفعِ مضرت مقدم ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز کے لیے پیدل چل کر آنے اور واپس جانے والے نمازی حضرات کو اجر و ثواب ملتا ہے اور جو شخص نماز کے لیے جتنی دور سے آئے اسے اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے۔
❀ جو شخص مسجد کی طرف پیدل چلتا ہے، تو اس کے دونوں قدموں میں سے ایک قدم گناہ مٹاتا اور دوسرا قدم درجہ بلند کرتا ہے۔ [صحيح مسلم: 666]
➋ لہٰذا مساجد کے قریب رہائش اختیار کرنے کے بجائے مساجد سے دور رہائش اختیار کرنا افضل ہے، مگر یہ اس وقت ہے جب کوئی شخص نماز باجماعت مسجد میں ادا کرتا ہو۔
مسجد سے دور ہونے کی وجہ سے اگر کسی کی جماعت چھوٹ جاتی ہو تو اس صورت میں نماز باجماعت پانے کے لیے مسجد کے قریب رہائش اختیار کرنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ جلبِ منفعت پر دفعِ مضرت مقدم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 451]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 451 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← جابر بن عبد الله الأنصاري