صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
321. (88) باب التغليظ فى النظر إلى السماء فى الصلاة.
نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا سخت منع ہے۔
حدیث نمبر: 475
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، نا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلاتِهِمْ"، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ، حَتَّى قَالَ:" لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف بلند کرتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بڑی سخت تنبیہ فرمائی حتیٰ کہ فرمایا: ”ضرور رُک جائیں ورنہ اُن کی آنکھیں ضرور اُچک لی جائیں گی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 750، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 475، 476، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2284، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1192، وأبو داود فى (سننه) برقم: 913، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1340، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1044، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3591، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12247»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 475 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 475
فوائد:
➊ ان احادیث میں دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کے بارے میں سخت نہی اور شدید وعید وارد ہوئی ہے۔
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اس فعل کی ممانعت پر اجماع نقل کیا ہے۔ [شرح النووي: 151/4]
➋ نمازی آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانے سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی، اس سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے:
➊ اس سے وعید مقصود ہے، لہذا نماز میں یہ عمل حرام ہے۔
➋ اس مسئلہ میں ابن حزم افراط کا شکار ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
➌ آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانے والوں کے بارے میں ڈر ہے کہ ان انوار سے ان کی آنکھوں کا نور ختم نہ ہو جائے جو نماز کے وقت فرشتے نماز پر انوار لے کر اترتے ہیں۔ [فتح الباري: 302/2]
➊ ان احادیث میں دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کے بارے میں سخت نہی اور شدید وعید وارد ہوئی ہے۔
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اس فعل کی ممانعت پر اجماع نقل کیا ہے۔ [شرح النووي: 151/4]
➋ نمازی آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانے سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی، اس سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے:
➊ اس سے وعید مقصود ہے، لہذا نماز میں یہ عمل حرام ہے۔
➋ اس مسئلہ میں ابن حزم افراط کا شکار ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
➌ آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانے والوں کے بارے میں ڈر ہے کہ ان انوار سے ان کی آنکھوں کا نور ختم نہ ہو جائے جو نماز کے وقت فرشتے نماز پر انوار لے کر اترتے ہیں۔ [فتح الباري: 302/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 475]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 475 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري