صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
320. (87) باب الأمر بالخشوع فى الصلاة،
نماز میں خشوع اختیار کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: Q474
إِذِ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ، وَالْمُنَاجِي رَبَّهُ يَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يُفَرِّغَ قَلْبَهُ لِمُنَاجَاةِ خَالِقِهِ- عَزَّ وَجَلَّ- وَلَا يَشْغَلَ قَلْبَهُ التَّعَلُّقُ بِشَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا يَشْغَلُهُ عَنْ مُنَاجَاةِ خَالِقِهِ.
کیونکہ نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے اور اپنے پروردگار کے ساتھ سرگوشی کرنے والے کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے دل کو اپنے خالق ومالک کی سرگوشی کے لیے فارغ رکھے اور اپنے دل کو دنیوی امور مین سے کسی چیز کے ساتھ مشغول نہ کرے جو اسے اس کے پرودگار کے ساتھ سرگوشی سے غافل کردےـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q474]
حدیث نمبر: 474
نا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، نا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَى رَجُلا كَانَ فِي آخِرِ الصُّفُوفِ، فَقَالَ:" يَا فُلانُ، أَلا تَتَّقِي اللَّهَ، أَلا تَنْظُرُ كَيْفَ تُصَلِّي؟ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، إِنَّمَا يَقُومُ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ يُنَاجِيهِ، إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنِّي لا أَرَاكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ لأَرَى مِنْ خَلْفِ ظَهْرِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھرجب سلام پھیراتو صفوں کے آخر میں موجود ایک شخص کو پکارا اور فرمایا: ”اے فلاں، کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں، کیا تم غور و فکر نہیں کرتے کہ تم نے نماز کیسے پڑھی ہے؟ بیشک جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے رب سے راز و نیاز کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ لہٰذا اُسے سوچنا چاہئے کہ وہ اپنے رب سے کیسے راز و نیاز کر رہا ہے۔ تمہارا خیال ہے کہ میں تمہیں دیکھتا نہیں ہوں، اللہ کی قسم، بیشک میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 418، 741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 423، 424، ومالك فى (الموطأ) برقم: 577، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 474، 664، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6337، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 867، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 871، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7451»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 474 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 474
فوائد:
➊ اس حدیث میں نماز میں احسان اور خشوع اختیار کرنے اور رکوع و سجود کو مکمل ادا کرنے کا حکم ہے۔
➋ بلا ضرورت اللہ کی قسم کھانا جائز ہے، لیکن کسی کام میں تاکید و تفہیم کے لیے قسم اٹھانا مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 4/149]
➌ نماز میں کامل خشوع و خضوع کا اظہار کرنا ہے اور خشوع کے اثرات جسم کے ہر عضو پر ظاہر ہونے چاہییں۔ نیز نماز میں دائیں بائیں دیکھنا خلافِ خشوع ہے، لہذا اس سے گریز کرنا چاہیے۔
➊ اس حدیث میں نماز میں احسان اور خشوع اختیار کرنے اور رکوع و سجود کو مکمل ادا کرنے کا حکم ہے۔
➋ بلا ضرورت اللہ کی قسم کھانا جائز ہے، لیکن کسی کام میں تاکید و تفہیم کے لیے قسم اٹھانا مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 4/149]
➌ نماز میں کامل خشوع و خضوع کا اظہار کرنا ہے اور خشوع کے اثرات جسم کے ہر عضو پر ظاہر ہونے چاہییں۔ نیز نماز میں دائیں بائیں دیکھنا خلافِ خشوع ہے، لہذا اس سے گریز کرنا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 474]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 474 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي