صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
336. (103) باب فضل قراءة فاتحة الكتاب مع البيان أنها السبع المثاني، وأن الله لم ينزل فى التوراة ولا فى الإنجيل ولا فى القرآن مثلها.
سورۂ فاتحہ کی قرأت کی فضیلت کا بیان، اور اس بات کا بیان کہ وہ سبع مثانی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تورات انجیل اور قرآن مجید میں اس جیسی سورت نازل نہیں فرمائی
حدیث نمبر: 502
نا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍّ" . فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الإِمَامِ، فَغَمَزَ ذِرَاعِي، وَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، يَقُولُ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، يَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، يَقُولُ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، يَقُولُ الْعَبْدُ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7، فَهُوَ لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی نماز پڑھی (اس میں) اُم القرآن نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ ناقص ہے، ناقص ہے۔ مکمل نہیں ہے۔“ (ابو سائب کہتے ہیں) تو میں نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ، میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو پھر فاتحہ کیسے پڑھوں؟) تو اُنہوں نے میرے بازو کو دبایا اور فرمایا کہ اے فارسی، اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا ہے۔ لہٰذا آدھی نماز میرے لئے اور آدھی میرے بندے کے لئے ہے، بندہ کہتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ تو ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری حمد و ثنا بیان کی ہے۔ بندہ پڑھتا ہے «الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» ”نہایت رحم و کرم کرنے والا (ﷲ“ ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری تعریف و توصیف بیان کی ہے۔ بندہ تلاوت کرتا ہے کہ «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ”(ﷲ) حساب کے دن کا مالک ہے۔“ ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بڑائی اور بزرگی بیان کی ہے۔ اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہے۔ بندہ کہتا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ”(اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں۔“ تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان منقسم ہے، اور اس کے لئے وہ ہے جس کا سوال کرے۔ بندہ کہتا ہے کہ «صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ”اے اللہ، ہمیں سیدھے راستے پر ڈال دے، ان لوگوں کے راستے میں جن پر تو نے انعام کیا ہے، جن پر غضب نہیں ہوا اور وہ نہ گمراہ ہوئے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 502]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 395، ومالك فى (الموطأ) برقم: 278، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 489، 490، 502، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 776، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 875، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 908، وأبو داود فى (سننه) برقم: 821، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2953، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 838، 3784، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 168، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2403، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1189، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7411»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 502 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 502
فوائد:
اس حدیث کی وضاحت حدیث 488 کے ضمن میں ملاحظہ کریں۔
اس حدیث کی وضاحت حدیث 488 کے ضمن میں ملاحظہ کریں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 502]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 502 in Urdu
عبد الله بن السائب الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي