صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
357. (124) باب إجازة الصلاة بالتسبيح والتكبير والتحميد والتهليل لمن لا يحسن القرآن
جو شخص قرآن مجید کی تلاوت نہ کرسکتا ہو اسے تسبیح، تکبیر، تحمید اور تہلیل کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 545
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا، قَالَ رِفَاعَةُ: وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ كَالْبَدَوِيِّ، فَصَلَّى فَأَخَفَّ صَلاتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، وَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ:" وَعَلَيْكَ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَخَافَ النَّاسُ وَكَبُرَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَكُونَ مَنْ أَخَفَّ صَلاتَهُ لَمْ يُصَلِّ، فَقَالَ الرَّجُلُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: فَأَرِنِي أَوْ عَلِّمْنِي، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُصِيبُ وَأُخْطِئُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَلْ، إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاةِ، فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ، ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ، ثُمَّ كَبِّرْ، فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ، فَاقْرَأْ بِهِ وَإِلا فَاحْمَدِ اللَّهَ، وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ، ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ اعْتَدِلْ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَاعْتَدِلْ سَاجِدًا، ثُمَّ اجْلِسْ فَاطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ قُمْ، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاتُكَ، وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهَا شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلاتِكِ" . قَالَ: وَكَانَتْ هَذِهِ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنَ الأُولَى، أَنَّ مَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا انْتَقَصَ مِنْ صَلاتِهِ وَلَمْ يَذْهَبْ كُلُّهَا
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے، رفاعہ کہتے ہیں اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا جو بدوی لگتا تھا، اُس نے نماز پڑھی تو مختصر سی نماز پڑھی، اُس نے پھر نماز سے فارغ ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“ وہ آدمی واپس گیا، اُس نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔“ اُس شخص نے دو یا تین بار اس طرح (ہلکی اور مختصر) نماز پڑھی۔ ہر بار وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تجھے بھی سلام ہو، واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ صحابہ کرام ڈر گئے اور اُن پر یہ بات بڑی گراں گزری کہ جو شخص مختصر نماز پڑھے اُس کی نماز ہی نہ ہو۔ بالآخر اس شخص نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (نماز پڑھ کر) دکھا دیں یا مجھے (نماز پڑھنا) سکھا دیں، بلاشبہ میں ایک انسان ہوں، مجھ سے غلطی بھی ہو جاتی ہے اور میں صحیح کام بھی انجام دیتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرور (سکھا دیتا ہوں) جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اﷲ تعالیٰ کے حُکم کے مطابق وضو کرو، پھر شہادتین کا اقرار کر پھر اقامت کہہ کر «اللهُ أَكْبَرُ» کہو پھر اگر تجھے قرآن مجید یاد ہو تو اس کی تلاوت کرو، وگرنہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء «الحَمْدُ لِلَٰه» اس کی تکبیر «اللهُ أَكْبَرُ» اور تہلیل «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» بیان کرو۔ پھر رُکوع کرو تو خوب اطمینان سے رُکوع کرو، پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر سجدہ کرو تو پوری طرح کرو، پھر پورے اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ، پھر (اگلی رکعت کے لئے) کھڑے ہو جاؤ، جب تم اس طرح سے (نماز ادا) کرو گے تو تمہاری نماز پوری ہو جائے گی اور اگر تم نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کی کمی کی تو تمہاری ناقص رہ جائے گی۔“ فرماتے ہیں کہ یہ چیز صحابہ کرام کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے فرمان سے آسان تھی کہ جس شخص نے کوئی کمی کی اس کی نماز میں کمی ہو جائے گی اور مکمّل نماز ضائع نہیں ہوگی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 217، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 545، 597، 638، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1787، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 888، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 666، والترمذي فى (جامعه) برقم: 302، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1368، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 460، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 197، والدارقطني فى (سننه) برقم: 319، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19300»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 545 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 545
فوائد:
◈ شارحِ مصابیح بیان کرتے ہیں: اس واقعہ سے یہ جواز نہیں نکلتا کہ جو سورہ فاتحہ اور تلاوتِ قرآن کا استحضار نہ کرے وہ تمام زمانہ مذکورہ کلمات کو نماز میں معمول بنا لے۔
کیونکہ جو شخص مذکورہ کلمات سیکھ سکتا ہے وہ لامحالہ سورہ فاتحہ سیکھنے پر بھی قادر ہو گا، بلکہ صحابی کے قول کی تاویل یہ ہے کہ اس وقت (جبکہ نماز کا وقت ہو چکا تھا) وہ قرآن یاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور نماز سے فراغت کے بعد سورہ فاتحہ سیکھنا ان پر لازم تھا۔
نیز احادیث الباب دلیل ہیں کہ جو شخص قرآن سیکھ نہ سکے، اس کے لیے نماز میں مذکورہ کلمات کہنا کافی ہیں۔
اور ان احادیث میں یہ ثابت نہیں کہ مذکورہ کلمات مکرر کہے جائیں، بلکہ ان کلمات کو نماز میں ایک مرتبہ کہنا ہی کافی ہے۔
البتہ بعض علماء کا موقف ہے کہ نماز میں یہ کلمات تین بار کہے جائیں۔
نیز ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے وجوب کے قائلین کا موقف ہے کہ مذکورہ کلمات نماز کی ہر رکعت میں کہے جائیں۔ [نیل الأوطار: 233/2]
◈ شارحِ مصابیح بیان کرتے ہیں: اس واقعہ سے یہ جواز نہیں نکلتا کہ جو سورہ فاتحہ اور تلاوتِ قرآن کا استحضار نہ کرے وہ تمام زمانہ مذکورہ کلمات کو نماز میں معمول بنا لے۔
کیونکہ جو شخص مذکورہ کلمات سیکھ سکتا ہے وہ لامحالہ سورہ فاتحہ سیکھنے پر بھی قادر ہو گا، بلکہ صحابی کے قول کی تاویل یہ ہے کہ اس وقت (جبکہ نماز کا وقت ہو چکا تھا) وہ قرآن یاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور نماز سے فراغت کے بعد سورہ فاتحہ سیکھنا ان پر لازم تھا۔
نیز احادیث الباب دلیل ہیں کہ جو شخص قرآن سیکھ نہ سکے، اس کے لیے نماز میں مذکورہ کلمات کہنا کافی ہیں۔
اور ان احادیث میں یہ ثابت نہیں کہ مذکورہ کلمات مکرر کہے جائیں، بلکہ ان کلمات کو نماز میں ایک مرتبہ کہنا ہی کافی ہے۔
البتہ بعض علماء کا موقف ہے کہ نماز میں یہ کلمات تین بار کہے جائیں۔
نیز ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے وجوب کے قائلین کا موقف ہے کہ مذکورہ کلمات نماز کی ہر رکعت میں کہے جائیں۔ [نیل الأوطار: 233/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 545]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 545 in Urdu
يحيى بن خلاد الأنصاري ← رفاعة بن رافع الزرقي