صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
392. (159) باب الاعتدال وطول القيام بعد رفع الرأس من الركوع
رکوع سے سراٹھانے کے بعد سیدھے کھڑے ہونے اور لمبا قیام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 609
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ :" إِنِّي لا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي"، قَالَ ثَابِتٌ: وَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، انْتَصَبَ قَائِمًا حَتَّى نَقُولَ قَدْ نَسِيَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ بیشک میں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، تمہیں (ویسی ہی) نماز پڑھانے میں کوئی کمی و کوتاہی نہیں کرتا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس جو (دوران نماز کچھ اعمال) کرتے تھے، میں تمہیں وہ اعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رُکوع سے اپنا سر اُٹھاتے تو (دیر تک) سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کے ہم (دل میں) کہتے کہ وہ بھول گئے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 800، 821، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 472، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 609، 682، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1885، 1902، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2667، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12849»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 609 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 609
فوائد:
رکوع سے اٹھنے کے بعد اعتدال اور دو سجدوں کے درمیان قعدہ کے اعتدال میں طمانیت واجب ہے۔
◈ عترہ، شافعی، احمد، اسحاق اور داؤد ظاہری کا یہی موقف ہے۔
اکثر علماء کہتے ہیں کہ جو شخص ان دو ارکان میں اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا یعنی (صحیح اعتدال اور طمانیت حاصل نہ ہو) تو اس کی نماز صحیح نہیں ہے اور احادیث الباب سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔
◈ لیکن ابوحنیفہ اور مالک سے منقول ہے کہ ان دو جگہوں میں طمانیت واجب نہیں، بلکہ رکوع ہی سے سجدہ میں مڑ جانا اور سجدہ سے معمولی سر اٹھانا ہی صحتِ نماز کے لیے کافی ہے۔ [نيل الأوطار: 262/2]
رکوع سے اٹھنے کے بعد اعتدال اور دو سجدوں کے درمیان قعدہ کے اعتدال میں طمانیت واجب ہے۔
◈ عترہ، شافعی، احمد، اسحاق اور داؤد ظاہری کا یہی موقف ہے۔
اکثر علماء کہتے ہیں کہ جو شخص ان دو ارکان میں اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا یعنی (صحیح اعتدال اور طمانیت حاصل نہ ہو) تو اس کی نماز صحیح نہیں ہے اور احادیث الباب سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔
◈ لیکن ابوحنیفہ اور مالک سے منقول ہے کہ ان دو جگہوں میں طمانیت واجب نہیں، بلکہ رکوع ہی سے سجدہ میں مڑ جانا اور سجدہ سے معمولی سر اٹھانا ہی صحتِ نماز کے لیے کافی ہے۔ [نيل الأوطار: 262/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 609]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 609 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري