صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
393. (160) باب التسوية بين الركوع والقيام بعد رفع الرأس من الركوع
رکوع اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قیام میں برابری کا بیان
حدیث نمبر: 610
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كَانَ " رُكُوعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفْعُ رَأْسِهِ بَعْدَ الرُّكُوعِ، وَالسُّجُودُ، وَجُلُوسُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ" . هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، أنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" كَانَ رُكُوعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَسُجُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ"
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُکوع، رُکوع سے سر اٗٹھانا (قیام) سجدہ، اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ امام صاحب اپنے استاد محترم جناب احمد بن المقدام کی سند سے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُکوع، رُکوع سے سر اُٹھانے (کے بعد قیام) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجود اور دو سجدوں کے درمیان (بیٹھنا) تقریباً برابر ہوتا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 610]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 792، 801، 820، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 471، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 610، 659، 661، 683، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1884، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1064، وأبو داود فى (سننه) برقم: 852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 279، 280، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18761»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 610 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 610
فوائد:
مذکورہ ارکان میں معمولی فرق ہے جو متعین نہیں ہے اور احادیثِ باب دلیل ہیں کہ رکوع سے اٹھنے (قومہ) میں اعتدال اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں اعتدال طویل ہوتا تھا۔ [عون المعبود: 86/3]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ رکوع کے بعد کا قیام ایک طویل رکن ہے، اس میں اعتدال اور ٹھہراؤ لازم ہے۔
نیز آپ کے فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نماز کا باقاعدہ رکن ہے، جس میں اعتدال لازم ہے، لہٰذا اس اعتدال کا اہتمام صحتِ نماز کے لیے ضروری ہے اور یہ واجباتِ نماز میں سے ہے۔
مذکورہ ارکان میں معمولی فرق ہے جو متعین نہیں ہے اور احادیثِ باب دلیل ہیں کہ رکوع سے اٹھنے (قومہ) میں اعتدال اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں اعتدال طویل ہوتا تھا۔ [عون المعبود: 86/3]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ رکوع کے بعد کا قیام ایک طویل رکن ہے، اس میں اعتدال اور ٹھہراؤ لازم ہے۔
نیز آپ کے فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نماز کا باقاعدہ رکن ہے، جس میں اعتدال لازم ہے، لہٰذا اس اعتدال کا اہتمام صحتِ نماز کے لیے ضروری ہے اور یہ واجباتِ نماز میں سے ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 610]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 610 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري