صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
404. (171) باب التكبير مع الإهواء للسجود.
سجدے کے لیے جھکتے وقت اللہ اکبر کہنے کا باب
حدیث نمبر: 624
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے لئے جُھکتے وقت «اللهُ أَكْبَرُ» کہا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 785، 789، 795، 803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 392، ومالك فى (الموطأ) برقم: 248، وابن الجارود فى "المنتقى"، 205، 214، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 499، 571، 578، 579، 611، 624، 688، 694، 695، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1766، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 817، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 904، وأبو داود فى (سننه) برقم: 738، 836، 934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 254، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 853، 860، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2432، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6272»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 624 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 624
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہنی چاہیے۔
حالتِ قیام میں یا سجدے میں پہنچ کر تکبیر کہنا مسنون طریقہ نہیں ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کا آغاز کیا جائے اور تکبیر کے الفاظ کو طول دیا جائے حتیٰ کہ پیشانی زمین پر لگ جائے۔“
[شرح النووي: 98/4]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہنی چاہیے۔
حالتِ قیام میں یا سجدے میں پہنچ کر تکبیر کہنا مسنون طریقہ نہیں ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کا آغاز کیا جائے اور تکبیر کے الفاظ کو طول دیا جائے حتیٰ کہ پیشانی زمین پر لگ جائے۔“
[شرح النووي: 98/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 624]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 624 in Urdu
أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أبو هريرة الدوسي