صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
421. (188) باب الاعتدال فى السجود والنهي عن افتراش الذراعين الأرض.
سجدہ میں اعتدال اختیار کرنے اور دونوں بازؤں کو زمین پر بچھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 645
نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي ، أنا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ الْهِلالِيُّ ، عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ الْبَكْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَبْسُطْ ذِرَاعَيْكَ كَبَسْطِ السَّبُعِ، وَادْعَمْ عَلَى رَاحَتَيْكَ، وَتَجَافَ عَنْ ضَبْعَيْكَ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ سَجَدَ كُلُّ عُضْوٍ مِنْكَ"
سیدنا ابن عمر رضہ اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بازوؤں کو درندے کی طرح مت پھیلاؤ اور اپنی ہتھیلیوں کو ٹکا لو اور اپنے بازوؤں کو (پہلوؤں سے دور رکھ، پس بیشک جب تم یہ کام کر لوگے تو تمہارے جسم کے تمام اعضاء سجدہ کر لیں گے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1914، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 833، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 2927، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13757، 13784»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 645 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 645
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ حالتِ سجدہ میں بازو پہلوؤں سے دور اور زمین سے بلند ہونے چاہئیں۔
➋ نیز سجدہ میں درندے کی طرح بازو بچھانا ممنوع فعل ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ حالتِ سجدہ میں بازو پہلوؤں سے دور اور زمین سے بلند ہونے چاہئیں۔
➋ نیز سجدہ میں درندے کی طرح بازو بچھانا ممنوع فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 645]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 645 in Urdu
آدم بن علي العجلي ← عبد الله بن عمر العدوي