صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
432. (199) باب إتمام السجود والزجر عن انتقاصه
سجدوں کو مکمل کرنے اور اس میں کمی کرنے پر سختی کا بیان،
حدیث نمبر: 665
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ الأَحْنَفِ الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلامٍ الأَسْوَدُ ، نا أَبُو صَالِحٍ الأَشْعَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَلَسَ فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ، فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَجَعَلَ يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرَوْنَ هَذَا، مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا، مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ، يَنْقُرُ صَلاتَهُ كَمَا يَنْقُرُ الْغُرَابُ الدَّمَ، إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ، كَالْجَائِعِ لا يَأْكُلُ إِلا التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ، فَمَاذَا تُغْنِيَانِ عَنْهُ، فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" . قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَقُلْتُ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ؟ فَقَالَ: أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ: عَمْرُو ابْنُ الْعَاصِ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، كُلُّ هَؤُلاءِ سَمِعُوهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوعبداللہ الاشعری بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی پھر اُن کی ایک جماعت میں بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں ایک شخص (مسجد میں) داخل ہوا تو اُس نے نماز پڑھی، تو اُس نے رُکوع کرنا شروع کیا اور اپنے سجدوں میں ٹھونگیں مارنے لگا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اُس شخص کو دیکھ رہے ہو، جو شخص اس حالت میں مرگیا تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملّت و دین پر نہیں مرے گا۔ یہ شخص نماز میں اس طرح ٹھونگیں مار رہا ہے جیسے کوّا خون کو ٹھونگیں مارتا ہے۔ بلاشبہ اُس شخص کی مثال جو رُکوع کرتا ہے اور اپنے سجدوں میں ٹھونگیں مارتا ہے، اس بُھوکے شخص کی سی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے تو بھلا وہ اسے کیا فا ئدہ دیں گی؟ اس کے لئے مکمّل وضو کیا کرو (خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔ رُکوع اور سجود کو مکمّل کیا کرو۔ جناب ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ الاشعری سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا (مجھے یہ حدیث) سپہ سالاروں سیدنا عمرو بن العاص، خالد بن الولید، یزید بن ابی سفیان اور شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم نے بیان کی ہے۔ ان سب نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 665، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 455، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2615، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7184، 7350، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 503، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 3840»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 665 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 665
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ رکوع و سجود میں اعتدال اور انہیں خوب اچھے طریقے سے ادا کرنا واجب ہے۔
نیز رکوع و سجود میں جلد بازی اور ان ارکان میں نقص صحتِ نماز کے خلاف ہے۔
➋ ان احادیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم رکوع و سجود کو ان کی شروط، سنن اور آداب کے ساتھ مکمل ادا کرو اور ان میں طمانیت کو کما حقہ پورا کرو۔
نیز رکوع و سجود میں طمانیت فرض ہے اور طمانیت سے مقصود یہ ہے کہ رکوع و سجود میں اعضاء ٹھیک قرار پکڑ لیں۔ [فیض القدیر: 1/ 88]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ رکوع و سجود میں اعتدال اور انہیں خوب اچھے طریقے سے ادا کرنا واجب ہے۔
نیز رکوع و سجود میں جلد بازی اور ان ارکان میں نقص صحتِ نماز کے خلاف ہے۔
➋ ان احادیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم رکوع و سجود کو ان کی شروط، سنن اور آداب کے ساتھ مکمل ادا کرو اور ان میں طمانیت کو کما حقہ پورا کرو۔
نیز رکوع و سجود میں طمانیت فرض ہے اور طمانیت سے مقصود یہ ہے کہ رکوع و سجود میں اعضاء ٹھیک قرار پکڑ لیں۔ [فیض القدیر: 1/ 88]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 665]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 665 in Urdu
يزيد بن أبي سفيان القرشي ← شرحبيل بن حسنة