صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ التَّحْجِيلِ بِغَسْلِ الْعَضُدَيْنِ فِي الْوُضُوءِ إِذِ الْحِلْيَةُ تَبْلُغُ مَوَاضِعَ الْوُضُوءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحُكْمِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
وضو میں «عَضُدَين» (کندھے اور کہنی کے درمیان کے حصے تک بازو) دھو کر تجیل کو لمبا کرنا مستحب ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم (پر عمل کرنے) کی وجہ سے قیامت کے روز (مؤمن کا) زیور وضو کے مقامات تک پہنچے گا
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الصَّيْرَفِيُّ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَجَعَلَ يَبْلُغُ بِالْوَضُوءِ قَرِيبًا مِنْ إِبْطِهِ، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْحِلْيَةَ تَبْلُغُ مَوَاضِعَ الطُّهُورِ"
ابوحازم رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو وہ وضو کے پانی کو اپنی بغلوں تک پہنچا رہے تھے۔ میں نے ان سے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”بلاشبہ (مومن) کا زیور وضو کے مقامات تک پہنچے گا۔“ (اس لیے میں پانی کو بغلوں تک پہنچا رہا ہوں۔) [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الوضوء/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 250، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 7، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1045، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 149، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 142، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 257، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8962، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6202، والبزار فى (مسنده) برقم: 9746»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 7 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 7
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ جہاں تک اعضائے وضو کو وضو کا پانی پہنچے گا، اعضائے وضو کا اتنا حصہ روزِ قیامت روشن ہو گا لیکن اس سے یہ استدلال کرنا کہ اعضاء دھونے میں اعضائے وضو کی مقررہ حد سے تجاوز کیا جائے درست نہیں۔ تا ہم صحابہ کرام جس قدر اعضاء کو دھوتے تھے اس قدر اعضاء کو دھو کر چمک کو زیادہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ جہاں تک اعضائے وضو کو وضو کا پانی پہنچے گا، اعضائے وضو کا اتنا حصہ روزِ قیامت روشن ہو گا لیکن اس سے یہ استدلال کرنا کہ اعضاء دھونے میں اعضائے وضو کی مقررہ حد سے تجاوز کیا جائے درست نہیں۔ تا ہم صحابہ کرام جس قدر اعضاء کو دھوتے تھے اس قدر اعضاء کو دھو کر چمک کو زیادہ کیا جا سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 7]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 7 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي