صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
451. (218) باب السنة فى الجلوس فى الركعة التى يسلم فيها.
جس رکعت میں سلام پھیرا جاتا ہے اس میں بیٹھنے کے مسنون طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 702
نا الْقُطَعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ، قَالَ: كُنَّا نَحْفَظُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ كَمَا نَحْفَظُ حُرُوفَ الْقُرْآنِ الْوَاوَ وَالأَلِفَ، فَإِذَا جَلَسَ عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى، قَالَ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَدْعُو لِنَفْسِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ"
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں نماز میں تشہد پڑھنا سکھایا۔ (حضرت اسود) فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اُسے اسی طرح یاد کرتے تھے جیسے قرآن مجید کے حروف واؤ اور الف کو یاد کرتے تھے۔ پس جب آپ اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے تو پڑھتے، «التَّحِيَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ّٰاللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ َّاللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا َّاللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبی، آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکات آپ پر نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے دعا مانگتے، پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہو جاتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 831، 835، 1202، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 402، وابن الجارود فى "المنتقى"، 228، 736، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 702، 703، 704، 708، 720، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 996، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 983، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1161، وأبو داود فى (سننه) برقم: 968، والترمذي فى (جامعه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2863، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1327، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3632»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 702 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 702
فوائد:
➊ ان احادیث کی رو سے آخری قعدہ میں تورک (بایاں پاؤں دائیں ٹانگ کے نیچے سے نکال کر بائیں سرین پر بیٹھنا) مسنون ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (یہ احادیث) مذہبِ شافعی کی قوی دلیل ہیں کہ پہلے تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ آخری تشہد میں بیٹھنے کی ہیئت سے مختلف ہے۔ [تحفة الأحوذي: 151/2]
➋ یہ احادیث تشہدِ اول اور تشہدِ اخیر میں فرق کی صریح دلیل ہیں۔
◈ امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”تورک اور افتراش کے بارے میں مروی روایات مطلق ہیں، ان میں یہ صراحت نہیں کہ بیٹھنے کا یہ طریقہ دونوں تشہدوں میں مشروع ہے یا ایک میں، البتہ ابوحمید ساعدی اور ان کے رفقاء صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ افتراش تشہدِ اول اور تورک تشہدِ اخیر میں مشروع ہے۔ اور ان روایات میں مجمل روایات کا بیان ہے۔ لہٰذا مجمل روایات کو ان روایات پر محمول کیا جائے گا۔“ [شرح النووي: 80/5]
➊ ان احادیث کی رو سے آخری قعدہ میں تورک (بایاں پاؤں دائیں ٹانگ کے نیچے سے نکال کر بائیں سرین پر بیٹھنا) مسنون ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (یہ احادیث) مذہبِ شافعی کی قوی دلیل ہیں کہ پہلے تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ آخری تشہد میں بیٹھنے کی ہیئت سے مختلف ہے۔ [تحفة الأحوذي: 151/2]
➋ یہ احادیث تشہدِ اول اور تشہدِ اخیر میں فرق کی صریح دلیل ہیں۔
◈ امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”تورک اور افتراش کے بارے میں مروی روایات مطلق ہیں، ان میں یہ صراحت نہیں کہ بیٹھنے کا یہ طریقہ دونوں تشہدوں میں مشروع ہے یا ایک میں، البتہ ابوحمید ساعدی اور ان کے رفقاء صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ افتراش تشہدِ اول اور تورک تشہدِ اخیر میں مشروع ہے۔ اور ان روایات میں مجمل روایات کا بیان ہے۔ لہٰذا مجمل روایات کو ان روایات پر محمول کیا جائے گا۔“ [شرح النووي: 80/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 702]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 702 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود