🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. ‏(‏56‏)‏ بَابُ كَرَاهِيَةِ رَدِّ السَّلَامِ يُسَلَّمُ عَلَى الْبَائِلِ
پیشاب کرنے والے کو سلام کیا جائے تو سلام کا جواب دینا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ رَجُلا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کررہے تھے۔ اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے سلام کا جواب نہ دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 370، ومالك فى (الموطأ) برقم: 176، وابن الجارود فى "المنتقى"، 40، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 73، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1316، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 639، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 37، وأبو داود فى (سننه) برقم: 16، 330، 331، والترمذي فى (جامعه) برقم: 90، 2720، 2720 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 353، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 487، والدارقطني فى (سننه) برقم: 676، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1685»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥الضحاك بن عثمان الحزامي، أبو عثمان
Newالضحاك بن عثمان الحزامي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← الضحاك بن عثمان الحزامي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد
Newمحمد بن عبد الله الزبيرى ← سفيان الثوري
ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن عبد الله الزبيرى
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن بشار العبدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عمر بن سعد الحفري، أبو داود
Newعمر بن سعد الحفري ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← عمر بن سعد الحفري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
16
لم يرد عليه
سنن النسائى الصغرى
37
سلم عليه فلم يرد
صحيح ابن خزيمة
73
لم يرد
جامع الترمذي
90
يبول فلم يرد عليه
سنن أبي داود
330
لم يمنعني أن أرد عليك السلام إلا أني لم أكن على طهر
سنن أبي داود
331
لم يرد عليه رسول الله حتى أقبل على الحائط فوضع يده على الحائط ثم مسح وجهه ويديه ثم رد رسول الله على الرجل السلام
سنن ابن ماجه
353
يبول فسلم عليه فلم يرد عليه
صحيح مسلم
823
رجلا مر ورسول الله يبول فسلم فلم يرد عليه
جامع الترمذي
2720
سلم على النبي وهو يبول فلم يرد عليه يعني السلام
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 73 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 73
فوائد:
مسلمان شخص قضائے حاجت کی حالت میں سلام کا جواب دینے کا روادار نہیں ہے۔ اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ شافعیہ کہتے ہیں: قضائے حاجت میں مصروف شخص کو سلام کہنا مکروہ فعل ہے اور اگر قضائے حاجت کے لیے بیٹھے شخص کو سلام کہا جائے تو سلام کا جواب دینا مکروہ ہے، نیز قضائے حاجت کے لیے بیٹھا شخص نہ ذکر و اذکار کرے، نہ تسبیح و تہلیل کہے۔ نہ سلام کا جواب دے، نہ چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دے نہ چھینک آنے کی صورت میں «الحمد لله» کہے اور نہ ہی موذن کی اذان کا جواب دے۔ اسی طرح مذکورہ اذکار و وظائف کا اہتمام حالت جماع میں مکروہ ہے اور ایسی حالتوں میں چھینک آنے پر دل میں «الحمد لله» کہی جائے اور زبان کو حرکت نہیں دینی چاہیے۔
[نووي: 64/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 73]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 331
حضر (اقامت) میں تیمم کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے تو بئر جمل کے پاس ایک آدمی کی ملاقات آپ سے ہو گئی، اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 331]
331۔ اردو حاشیہ:
مذکورہ دو روایات میں سے بھی دو مرتبہ ہاتھ مارنے والی روایت منکر اور ضعیف ہے اور ایک مرتبہ ہاتھ مارنے والی صحیح، اس لیے قابل عمل حدیث یہی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 331]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 37
پیشاب کرنے والے کو سلام کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 37]
37۔ اردو حاشیہ:
➊ نجاست والی حالت میں اللہ کا ذکرمناسب نہیں، اس لیے پیشاب اور پاخانہ کرتے ہوئے سلام کا جواب دینا اور ذکر و اذکار کرنا درست نہیں۔ جب وہ جواب نہیں دے سکتا تو اسے سلام بھی نہیں کہنا چاہیے، گویا جس حالت میں سلام کا جواب دینا منع ہے اس حالت میں اسے سلام کہنا بھی درست نہیں، سوائے حالت نماز کے کہ اس میں ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دینا مسنون ہے۔
➋ اہل علم فرماتے ہیں: جس طرح قضائے حاجت کے وقت سلام کا جواب دینا درست نہیں اسی طرح اس حالت میں چھینک مارنے والے کا جواب دینا یا خود الحمد للہ کہنا اور اذان کا جواب دینا بھی درست نہیں۔ ایسے ہی حالت جماع میں ان باتوں سے رکے رہنا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 37]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 90
بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 90]
اردو حاشہ:
1؎:
اور یہی راجح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کی حالت میں ہونے کی وجہ سے جواب نہیں دیا،
نہ کہ وضو کے بغیر سلام کا جواب جائز نہیں،
اور جن حدیثوں میں ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت کے بعد وضو کیا اور پھر آپ نے جواب دیا“ تو یہ استحباب پر محمول ہے،
نیز یہ بات آپ کو خاص طور پر پسند تھی کہ آپ اللہ کا نام بغیر طہارت کے نہیں لیتے تھے،
اس حدیث سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ پائخانہ پیشاب کرنے والے پر سلام ہی نہیں کرنا چاہئے،
یہ حکم وجوبی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 90]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 823
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص گزرا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو اس نے سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہ دیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:823]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے پیشاب سے فراغت کے بعد سلام کہا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدم طہارت کی بنا پر جواب نہیں دیا،
بول و براز کی حالت میں سلام کہنا اور اس کا جواب دینا آداب واخلاق کے منافی ہے،
امام ابو حنیفہ کے نزدیک موذن،
نمازی،
قاری اور خطیب سلام کے جواب دینے کا پابند نہیں دل میں جواب دے لے۔
امام محمد کے نزدیک فراغت کے بعد جواب دے۔
اور امام ابو یوسف کے نزدیک جواب نہیں دے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 823]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 73 in Urdu