🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
505. ‏(‏272‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ نَجَاسَةٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ لَا يَعْلَمُ بِهَا لَمْ تَفْسُدْ صَلَاتُهُ‏.‏
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب نمازی کے کپڑے کو نجاست لگ جائے اور وہ اس سے بے خبر نماز پڑھ رہا ہو تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 786
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُقَيْلٍ ، نا حَفْصٌ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ، خَلَعُوا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالَ لَهُمْ:" مَا شَأْنُكُمْ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ نَعْلَيْكَ، فَخَلَعْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ:" أَتَانِي آتٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّ فِي نَعْلِي أَذًى فَخَلَعْتُهُمَا، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ، فَإِذَا رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا، فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالأَرْضِ ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِمَا"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اُتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیئے۔ جب صحابہ کرام نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اُتار دیئے ہیں تو اُنہوں نے بھی اپنے جوتے اُتار دیئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو اُنہیں فرمایا: تمہیں کیا ہوا تھا کہ تم نے اپنے جوتے اُتار دیئے تھے؟ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اُتار دیئے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اُتار دیئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں نے تو اس لئے اُتارے تھے) کہ میرے پاس ایک آنے والا (فرشتہ) آیا تو اُس نے مجھے بتایا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے تو میں نے اُتار دیا۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ (جوتے) دیکھ لے، اگر وہ اپنے جوتوں میں گندگی دیکھے تو اُنہیں زمین کے ساتھ رگڑ لے، پھر اُنہیں پہن کر نماز پڑھ لے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب اللباس فى الصلاة/حدیث: 786]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 786، 1017، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2185، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 961، وأبو داود فى (سننه) برقم: 650، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1418، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4153، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11322»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥عبد ربه السعدي، أبو نعامة
Newعبد ربه السعدي ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة
👤←👥الحجاج بن الحجاج الباهلي
Newالحجاج بن الحجاج الباهلي ← عبد ربه السعدي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← الحجاج بن الحجاج الباهلي
ثقة
👤←👥حفص بن عبد الله السلمي، أبو سهل، أبو عمرو
Newحفص بن عبد الله السلمي ← إبراهيم بن طهمان الهروي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن عقيل بن خويلد الخزاعي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عقيل بن خويلد الخزاعي ← حفص بن عبد الله السلمي
صدوق يخطئ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 786 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 786
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ اگر کپڑوں یا جسم پر نجاست لگی ہو اور انسان اس سے بے خبر ہو تو اس کی نماز درست ہے، البتہ نجاست کا علم ہونے پر اسے زائل کرنا لازم ہے اس صورت میں اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔
➋ نجاست کا علم ہونے پر دورانِ نماز اسے زائل کرنا لازم ہے، اگر نماز میں نجاست کا ازالہ ناممکن ہو تو نماز توڑ کر اسے زائل کیا جائے۔ کیونکہ صحتِ نماز کے لیے لباس و بدن کا طاہر ہونا شرط ہے۔
➌ جوتے کا تلوا اگر سیدھا ہو تو اسے زمین پر رگڑ لینے سے جوتا پاک ہو جاتا ہے۔ جوتوں سمیت نماز پڑھنے کے لیے ان کا نیا ہونا ضروری نہیں۔ تاہم اس بات کا لحاظ بھی رکھا جائے کہ مسجد کو صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔
**نوٹ:** اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غیبی امور کی اطلاع تب ہوتی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی جاتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 786]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 786 in Urdu