صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سترے کے بغیر نماز پڑھنا منع ہے -
حدیث نمبر: 800
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُصَلِّ إِلا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ ؛ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صرف سُترے کی طرف (مُنہ کر کے ہی) نماز پڑھا کرو، اور اپنے سامنے سے کسی کو نہ گزرنے دو، اگر وہ نہ مانے (اور گزرنے کی کوشش کرے) تو اُس سے لڑائی کرو کیونکہ اُس کے ساتھ ایک ساتھی (شیطان) ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 800]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 506، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 800، 820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2362، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 927، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3501، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5689»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 800 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 800
فوائد:
اس حدیث میں سترہ کے اہتمام کی خاص تاکید ہے۔
لیکن سترہ واجب نہیں، بلکہ مستحب فعل ہے۔
نیز حدیث میں مذکورہ نہی تحریمی نہیں ہے۔
اس کی دلیل حدیث [838] ہے۔
اس حدیث میں سترہ کے اہتمام کی خاص تاکید ہے۔
لیکن سترہ واجب نہیں، بلکہ مستحب فعل ہے۔
نیز حدیث میں مذکورہ نہی تحریمی نہیں ہے۔
اس کی دلیل حدیث [838] ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 800]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 800 in Urdu
صدقة بن يسار الجزري ← عبد الله بن عمر العدوي