صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نمازی جس چیز کو اپنی نماز کے لیے سُترہ بنائے، اس سُترے کے قریب ہونے کے حُکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 803
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: وَبَلَغَ بِهِا لنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الآخَرُونَ: رِوَايَةً قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى السُّتْرَةِ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، لا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلاتَهُ"
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو سُترے کی طرف نماز پڑھے اور سُترے کے قریب کھڑا ہو تاکہ شیطان اس کی نماز نہ کاٹ سکے ـ“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 803، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2373، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 928، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 747، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 826، وأبو داود فى (سننه) برقم: 695، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3530، 3531، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16338»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 803 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 803
فوائد:
اس حدیث میں سترہ کے قریب کھڑا ہونے کی مشروعیت کا بیان ہے، حتیٰ کہ سترہ اور نمازی کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
نیز سترہ کے قریب ہونے کے حکم میں حکمت یہ ہے کہ شیطان نمازی کی نماز قطع نہ کر دے۔ [نیل الأوطار: 3/2]
اس حدیث میں سترہ کے قریب کھڑا ہونے کی مشروعیت کا بیان ہے، حتیٰ کہ سترہ اور نمازی کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
نیز سترہ کے قریب ہونے کے حکم میں حکمت یہ ہے کہ شیطان نمازی کی نماز قطع نہ کر دے۔ [نیل الأوطار: 3/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 803]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 803 in Urdu
نافع بن جبير النوفلي ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري