صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
537. (304) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ فِي مُرُورِ الْحِمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي،
نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے کے بارے میں مروی حدیث کا بیان،
حدیث نمبر: Q833
قَدْ يَحْسِبُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ خِلَافُ خَبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے خلاف ہے کہ ”گدھا، کُتّا اور عورت نماز کو کاٹ دیتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: Q833]
حدیث نمبر: 833
ناهُ أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصُّفُوفِ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا، وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، فَلَمْ يَقُلْ لَنَا" ، قَالَ أَبُو مُوسَى: يَعْنِي شَيْئًا، وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: فَلَمْ يَنْهَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: فَلَمْ يَقُلْ لَنَا شَيْئًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَمَالِكٌ، فَقَالا: يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اور فضل رضی اللہ عنہما ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو ہم کچھ صفوں کے آگے سے گزرگئے، پھر ہم اس سے اُترے اور اُسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کچھ نہ کہا۔ جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے ”تو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا ـ“ جناب مخزومی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کو امام معمر اور مالک نے اس طرح روایت کیا کہ ”آپ لوگوں کو منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 833]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 76، 493، 861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 504، ومالك فى (الموطأ) برقم: 531، وابن الجارود فى "المنتقى"، 187، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 833، 834، 835، 837، 838، 882، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2151، وأبو داود فى (سننه) برقم: 715، 716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 337، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 947، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1916»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 833 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 833
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نمازی کے سامنے سے عورت، کالا کتا اور گدھا گزر جائے تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔
بعض علماء نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ نماز ٹوٹتی نہیں، بلکہ ان کا سامنے سے گزرنا نماز میں نقص پیدا کرتا ہے۔
اور بعض علماء نے ان احادیث کو منسوخ قرار دیا ہے۔
دعویٰ تنسیخ باطل ہے، کیونکہ اس کی کوئی واضح دلیل منقول نہیں۔
نیز پہلا موقف ہی راجح ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نمازی کے سامنے سے عورت، کالا کتا اور گدھا گزر جائے تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔
بعض علماء نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ نماز ٹوٹتی نہیں، بلکہ ان کا سامنے سے گزرنا نماز میں نقص پیدا کرتا ہے۔
اور بعض علماء نے ان احادیث کو منسوخ قرار دیا ہے۔
دعویٰ تنسیخ باطل ہے، کیونکہ اس کی کوئی واضح دلیل منقول نہیں۔
نیز پہلا موقف ہی راجح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 833]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 833 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي