🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
537. (304) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ فِي مُرُورِ الْحِمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي،
نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے کے بارے میں مروی حدیث کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 834
ثناهُ أَبُو موسى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، ثنا مَعْمَرٌ، ح وَثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، فِي خَبَرِ مَعْمَرٍ " وَمَرَّتِ الأَتَانُ بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ، فَلَمْ يَقْطَعْ عَلَيْهِمُ الصَّلاةَ" وَفِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ:" وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ فَتَرَكْتُهُ بَيْنَ الصَّفِّ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّلاةِ، فَلَمْ يَعِبْ عَلَيَّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَيْسَ فِي هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الأَتَانَ تَمُرُّ، وَلا تَرْتَعُ بَيْنَ يَدَيِ الصُّفُوفِ، وَلا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْلِمَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَأْمُرْ مَنْ مَرَّتِ الأَتَانُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِعَادَةِ الصَّلاةِ، وَالْخَبَرُ ثَابِتٌ صَحِيحٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ" الْكَلْبَ الأَسْوَدَ، وَالْمَرْأَةَ الْحَائِضَ، وَالْحِمَارَ، يَقْطَعُ الصَّلاةَ" وَمَا لَمْ يَثْبُتْ خَبَرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضِدِّ ذَلِكَ لَمْ يَجُزِ الْقَوْلُ وَالْفُتْيَا بِخِلافِ مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
جناب معمر رحمه الله کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”اور گدھی لوگوں کے آگے سے گزر گئی لیکن اُس نے اُن کی نماز کو توڑا نہیں۔ اور امام مالک رحمه الله کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں ایک گدھے پر سوار تھا تو میں نے اُسے صفوں کے درمیان چھوڑ دیا اور میں خود نماز میں شریک ہوگیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اس کام کی وجہ سے) ڈانٹا نہیں۔ امام ابوبکر رحمه اﷲ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ بیان نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھی کو صفوں کے آگے سے گزرتے یا چرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور نہ یہ ذکر ہوا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تھا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن افراد کو نماز لوٹانے کا حُکم نہیں دیا جن کے آگے سے گدھی گزری تھی - اور یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اور صحیح ہے کہ سیاہ کُتّا، حائضہ عورت اور گدھا نماز کو کاٹ دیتے ہیں۔ لہٰذا جب تک اس کے برعکس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ثابت نہ ہو جائے اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت حدیث کے خلاف فتویٰ دینا اور رائے اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 834]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 76، 493، 861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 504، ومالك فى (الموطأ) برقم: 531، وابن الجارود فى "المنتقى"، 187، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 833، 834، 835، 837، 838، 882، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2151، وأبو داود فى (سننه) برقم: 715، 716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 337، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 947، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1916»


صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 834 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 834
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ سترہ کا اہتمام مستحب فعل ہے، واجب نہیں۔
➋ ان احادیث سے استدلال کرنا کہ گزشتہ احادیث 830، 831 منسوخ ہیں، باطل ہے۔
کیونکہ ان احادیث میں یہ بیان نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھی گزری تھی۔
بالفرض یہ ثابت بھی ہو جائے تو بھی دعوٰی تنسیخ باطل ہے کیونکہ گزشتہ حدیث اور موجودہ احادیث کی تقدیم و تاخیر کی تعیین نہیں ہے۔
نیز اس حدیث سے یہ ثابت کر کے کہ گدھی کے گزرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ترک نہیں کی، یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ عورت اور کالا کتا بھی گزریں تو نماز باطل نہیں ہوتی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 834]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 834 in Urdu