صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
539. (306) باب إباحة الدعاء فى الصلاة
نماز میں دعا مانگنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 846
ناهُ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاتِي، وَفِي بَيْتِي قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجیے جو میں اپنی نماز اور اپنے گھر میں مانگا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ دعا مانگا کرو «اللّٰهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَبِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ”اے اللہ، بیشک میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیے ہیں اور تیرے سوا گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے، لہٰذا تو اپنے پاس سے مجھے مغفرت و بخشش عطا فرما اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بہت زیادہ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه/حدیث: 846]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 834، 6326، 7387، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2705، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 845، 846، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1976، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1301، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3531، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3835، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2928، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8، 29»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 846 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 846
فوائد:
➊ ان احادیث میں ان لوگوں کے موقف، مثلاً ابراہیم نخعی، کا رد ہے جو فرض نمازوں میں قرآنی ادعیہ کے سوا مسنون ادعیہ کی ممانعت کے قائل ہیں۔ [فیض القدیر: 4/ 68]
➋ فرض و نفل میں قرآنی ادعیہ کے سوا مسنون اذکار و ادعیہ کا اہتمام درست فعل ہے۔
نیز تشہد کے بعد سلام سے قبل مذکورہ دعا کا اہتمام بھی مستحسن فعل ہے۔
➊ ان احادیث میں ان لوگوں کے موقف، مثلاً ابراہیم نخعی، کا رد ہے جو فرض نمازوں میں قرآنی ادعیہ کے سوا مسنون ادعیہ کی ممانعت کے قائل ہیں۔ [فیض القدیر: 4/ 68]
➋ فرض و نفل میں قرآنی ادعیہ کے سوا مسنون اذکار و ادعیہ کا اہتمام درست فعل ہے۔
نیز تشہد کے بعد سلام سے قبل مذکورہ دعا کا اہتمام بھی مستحسن فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 846]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 846 in Urdu
مرثد بن عبد الله اليزني ← عبد الله بن عمرو السهمي