صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
545. (312) باب الأمر بالتسبيح للرجال، والتصفيق للنساء عند النائبة تنوبهم فى الصلاة
نماز میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو مردوں کو «سُبْحَانَ اللَٰه» اور عورتوں کو تالی بجانے کا حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 854
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، سَمِعَهُ مِنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَابَهُ فِي صَلاتِهِ شَيْءٌ، فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا هَذَا لِلنِّسَاءِ" يَعْنِي التَّصْفِيقَ هَذَا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ وَأَمَّا عَبْدُ الْجَبَّارِ فَحَدَّثَنَا بِالْحَدِيثِ بِطُولِهِ فِي خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلاتِكُمْ صَفَّقْتُمْ، إِنَّمَا هَذَا لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ فِي صَلاتِهِ شَيْءٌ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: التَّصْفِيقُ وَالتَّصْفِيحُ وَاحِدٌ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اپنی نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو اُسے چاہیے کہ «سُبْحَانَ اللَٰه» کہے، اور تالی بجانا تو عورتوں کے لئے ہے۔“ یہ علی بن خشرم کی روایت ہے۔ جبکہ عبدالجبار نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بنو عمرو بن عوف کے ہاں تشریف لے جانے کے متعلق مکمّل حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں یہ الفاظ بیان کئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آتی ہے تو تم تالیاں بجانے لگتے ہو؟ تالی بجانا تو عورتوں کا کام ہے، جسے نماز میں کوئی چیز پیش آئے تو «سُبْحَانَ اللَٰه» کہنا چاہیے۔ امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ تصفیق اور تصفیح دونوں کا معنی ایک ہی ہے (یعنی بجانا)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه/حدیث: 854]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي