صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
550. (317) باب ذكر الدليل على أن الكلام الذى لا يجوز التكلم به فى غير الصلاة،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وہ کلام جو نماز کے علاوہ بھی کرنا درست نہیں ہے،
حدیث نمبر: Q864
إِذَا تَكَلَّمَ بِهِ الْمُصَلِّي فِي صَلَاتِهِ جَهْلًا مِنْهُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ التَّكَلُّمُ بِهِ غَيْرُ مُفْسِدٍ لِلصَّلَاةِ
اگر نمازی جہالت و نا واقفیت کی بنا پر وہی کلام نماز کے دوران کردے تو وہ نماز کو فاسد نہیں کرے گی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه/حدیث: Q864]
حدیث نمبر: 864
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ، وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ:" لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا" يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قائم کی تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے، تو ایک بدوی شخص نے نماز میں اس طرح دعا مانگی، اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو بدوی سے کہا: ”تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ کر دیا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه/حدیث: 864]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 220، 6010، 6128، وابن الجارود فى "المنتقى"، 158، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 297، 298، 864، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 985، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 56، وأبو داود فى (سننه) برقم: 380، 882، والترمذي فى (جامعه) برقم: 147، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 529، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4306، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7375»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 864 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 864
فوائد:
➊ اس حدیث میں مذکورہ دعا کو ترک کرنے اور اس کی ممانعت کی طرف اشارہ ہے اور اس کے سوا مسلمانوں کے لیے رحمت اور ہدایت کی دعا کرنا مستحب فعل ہے۔
➋ نیز اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ نماز میں لاعلمی کی وجہ سے غیر شرعی دعا کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا تھا۔ [عون المعبود: 114/3]
➊ اس حدیث میں مذکورہ دعا کو ترک کرنے اور اس کی ممانعت کی طرف اشارہ ہے اور اس کے سوا مسلمانوں کے لیے رحمت اور ہدایت کی دعا کرنا مستحب فعل ہے۔
➋ نیز اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ نماز میں لاعلمی کی وجہ سے غیر شرعی دعا کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا تھا۔ [عون المعبود: 114/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 864]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 864 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي