صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
562. (329) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ إِبَاحَةَ بَزْقِ الْمُصَلِّي تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
اس بات کی دلیل کابیان کہ نمازی اپنے بائیں پاوُں کے نیچے تھوک سکتا ہے
حدیث نمبر: 879
ناهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى" . زَادَ الْعَلاءُ: ثُمَّ دَلَكَهَا
جناب مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔ جناب علاء نے یہ اضافہ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مل دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 879]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 554، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 878، 879، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2184، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 948، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 726، وأبو داود فى (سننه) برقم: 482، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3657، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16567»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 879 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 879
فوائد:
➊ مسجد میں تھوکنا وغیرہ ممنوع ہے۔
➋ دورانِ نماز مسجد وغیرہ میں سامنے اور دائیں جانب تھوکنا ممنوع ہے۔
➌ دورانِ نماز تھوک، رینٹ یا آلائش وغیرہ سے واسطہ پڑے تو بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے اور اس صورت میں اسے مل کر صاف کر دینا چاہیے یا پیچھے نمازی نہ ہوں تو پیچھے تھوک دینا چاہیے۔
➍ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”تھوک، رینٹ اور آلائش طاہر ہیں نجس نہیں اور اس میں اہل اسلام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، البتہ ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ وہ تھوک کو نجس قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ان سے صحیح ثابت معلوم نہیں ہوتا۔ نیز تھوکنے اور کھانے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔“ [شرح النووي: 5/29]
➊ مسجد میں تھوکنا وغیرہ ممنوع ہے۔
➋ دورانِ نماز مسجد وغیرہ میں سامنے اور دائیں جانب تھوکنا ممنوع ہے۔
➌ دورانِ نماز تھوک، رینٹ یا آلائش وغیرہ سے واسطہ پڑے تو بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے اور اس صورت میں اسے مل کر صاف کر دینا چاہیے یا پیچھے نمازی نہ ہوں تو پیچھے تھوک دینا چاہیے۔
➍ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”تھوک، رینٹ اور آلائش طاہر ہیں نجس نہیں اور اس میں اہل اسلام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، البتہ ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ وہ تھوک کو نجس قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ان سے صحیح ثابت معلوم نہیں ہوتا۔ نیز تھوکنے اور کھانے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔“ [شرح النووي: 5/29]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 879]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 879 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن الشخير الحرشي