صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. (70) باب ذكر خبر روي عن النبى صلى الله عليه وسلم فى نفي تنجيس الماء بلفظ مجمل غير مفسر، بلفظ عام مراده خاص
اس حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے ناپاک ہونے کی نفی کے بارے میں مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ مروی ہے، اس کے الفاظ عام ہین اور اس سے مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 91
نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ تَوَضَّأْتُ مِنْ هَذَا، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " الْمَاءُ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" . هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ محترمہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میں نے اس (پانی) سے وضو کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ یہ احمد بن مقدام کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح ابي داود: 59، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 53، 54، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 91، 109، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1241، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 568، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 324، وأبو داود فى (سننه) برقم: 68، والترمذي فى (جامعه) برقم: 65، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 370، 371، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 916، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2131»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 91 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 91
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ وضو کے لیے استعمال شدہ پانی نجس نہیں ہوتا اور اس عمل سے پانی کی طہارت زائل نہیں ہوتی۔ لٰہذا احناف کا موقف کہ پانی استعمال کرنے سے اس کی طہارت کی صلاحیت زائل ہو جاتی ہے، درست نہیں۔ نیز شافعی، احمد، حسن بصری، عطاء، نخعی زہری، مکحول اور ابن طاہر رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے کہ ماء مستعمل طاہر و مطہر ہے اور استعمال شدہ پانی میں پاک کرنے اور نجاست زائل کرنے کی صلاحیت ختم نہیں ہوتی۔
[المغني لابن قدامه الشرح الكبير: 47/1]
یہ حدیث دلیل ہے کہ وضو کے لیے استعمال شدہ پانی نجس نہیں ہوتا اور اس عمل سے پانی کی طہارت زائل نہیں ہوتی۔ لٰہذا احناف کا موقف کہ پانی استعمال کرنے سے اس کی طہارت کی صلاحیت زائل ہو جاتی ہے، درست نہیں۔ نیز شافعی، احمد، حسن بصری، عطاء، نخعی زہری، مکحول اور ابن طاہر رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے کہ ماء مستعمل طاہر و مطہر ہے اور استعمال شدہ پانی میں پاک کرنے اور نجاست زائل کرنے کی صلاحیت ختم نہیں ہوتی۔
[المغني لابن قدامه الشرح الكبير: 47/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 91]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 91 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي