🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. ‏(‏70‏)‏ باب ذكر خبر روي عن النبى صلى الله عليه وسلم فى نفي تنجيس الماء بلفظ مجمل غير مفسر، بلفظ عام مراده خاص
اس حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے ناپاک ہونے کی نفی کے بارے میں مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ مروی ہے، اس کے الفاظ عام ہین اور اس سے مراد خاص ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 91
نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ تَوَضَّأْتُ مِنْ هَذَا، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " الْمَاءُ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" . هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ محترمہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میں نے اس (‏‏‏‏پانی) سے وضو کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ یہ احمد بن مقدام کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح ابي داود: 59، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 53، 54، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 91، 109، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1241، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 568، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 324، وأبو داود فى (سننه) برقم: 68، والترمذي فى (جامعه) برقم: 65، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 370، 371، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 916، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2131»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى بن أبي حزم، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى بن أبي حزم ← محمد بن بكر البرساني
ثقة
👤←👥أحمد بن المقدام العجلي، أبو الأشعث
Newأحمد بن المقدام العجلي ← محمد بن يحيى بن أبي حزم
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 91 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 91
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ وضو کے لیے استعمال شدہ پانی نجس نہیں ہوتا اور اس عمل سے پانی کی طہارت زائل نہیں ہوتی۔ لٰہذا احناف کا موقف کہ پانی استعمال کرنے سے اس کی طہارت کی صلاحیت زائل ہو جاتی ہے، درست نہیں۔ نیز شافعی، احمد، حسن بصری، عطاء، نخعی زہری، مکحول اور ابن طاہر رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے کہ ماء مستعمل طاہر و مطہر ہے اور استعمال شدہ پانی میں پاک کرنے اور نجاست زائل کرنے کی صلاحیت ختم نہیں ہوتی۔
[المغني لابن قدامه الشرح الكبير: 47/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 91]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 91 in Urdu