صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
603. (370) باب الزجر عن الاستعجال عن الطعام قبل الفراغ منه عند حضور الصلاة
نماز کا وقت ہوجانے پر سیر ہوئے بغیر کھانے کو جلدی جلدی چھوڑنا منع ہے
حدیث نمبر: 936
نَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ عَلَى طَعَامٍ فَلا يَعْجَلَنَّ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ وَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ"
سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھا رہا ہو تو وہ جلدی نہ کرے حتیٰ کہ اپنی ضرورت و حاجت پوری کرلے، اگرچہ (اس دوران) نماز کھڑی ہو جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 936]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 673، 5463 م، 5464، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 559، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3562، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 935، 936، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2067، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3757، والترمذي فى (جامعه) برقم: 354، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 934، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5115، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4800»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥الفضيل بن سليمان النميري، أبو سليمان الفضيل بن سليمان النميري ← موسى بن عقبة القرشي | صدوق له خطأ كثير | |
👤←👥الحسن بن قزعة القرشي، أبو علي، أبو محمد الحسن بن قزعة القرشي ← الفضيل بن سليمان النميري | صدوق حسن الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 936 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 936
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ اگر نماز کے وقت کھانا حاضر ہو تو نماز سے قبل کھانا مستحب فعل ہے، تاکہ انسان کا دل خیالات سے فارغ اور نماز میں یکسو ہو۔ نیز اس دوران کھانے میں عجلت کرنا مکروہ فعل ہے۔ [المغنی لابن قدامہ: 107/3]
➋ یہ تخفیف اس شخص کے لیے ہے جس کے سامنے واقعی کھانا حاضر ہو۔ اور جس کے سامنے کھانا نہ رکھا گیا ہو بلکہ ابھی کھانا تیار ہو رہا ہو، تو اس کے لیے نماز باجماعت چھوڑنا جائز نہیں۔
➌ کھانے کا حاضر ہونا نماز باجماعت ترک کرنے کا شرعی عذر ہے۔ لہٰذا کھانے کی موجودگی کی صورت میں نماز باجماعت ترک کرنا جائز ہے، لیکن نماز چھوڑنے کے لیے ان احادیث کو ڈھال بنانا جائز نہیں ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ اگر نماز کے وقت کھانا حاضر ہو تو نماز سے قبل کھانا مستحب فعل ہے، تاکہ انسان کا دل خیالات سے فارغ اور نماز میں یکسو ہو۔ نیز اس دوران کھانے میں عجلت کرنا مکروہ فعل ہے۔ [المغنی لابن قدامہ: 107/3]
➋ یہ تخفیف اس شخص کے لیے ہے جس کے سامنے واقعی کھانا حاضر ہو۔ اور جس کے سامنے کھانا نہ رکھا گیا ہو بلکہ ابھی کھانا تیار ہو رہا ہو، تو اس کے لیے نماز باجماعت چھوڑنا جائز نہیں۔
➌ کھانے کا حاضر ہونا نماز باجماعت ترک کرنے کا شرعی عذر ہے۔ لہٰذا کھانے کی موجودگی کی صورت میں نماز باجماعت ترک کرنا جائز ہے، لیکن نماز چھوڑنے کے لیے ان احادیث کو ڈھال بنانا جائز نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 936]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 936 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي