صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
612. (379) باب ذكر الدليل على أن الله عز وجل ولى نبيه المصطفى صلى الله عليه وسلم تبيان عدد الصلاة فى السفر،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالی نے سفر میں نماز کی رکعات کی تعداد کا بیان اپنے نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ لگایا ہے
حدیث نمبر: 947
نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكَانُوا يُصَلُّونَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، لا يُصَلُّونَ قَبْلَهَا، وَلا بَعْدَهَا" وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لأَتْمَمْتُهَا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اﷲ عنہم اجمعین کے ساتھ سفر کئے ہیں، یہ سب حضرات ظہر اور عصر کی نماز دو دو رکعت پڑھا کرتے تھے، ان سے پہلے اور بعد میں کوئی (نفل یا سنت) نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر میں نے ان نمازوں سے پہلے یا بعد میں (سفر کی حالت میں نفل یا سنتیں) پڑھنی ہوتیں تو میں یہ نمازیں پوری پڑھتا (اور قصر نہ کرتا)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي