صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
625. (392) بَابُ نُزُولِ الرَّاكِبِ لِصَلَاةِ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ،
سفر میں سوار کا فرض نماز پڑھنے کے لئے سواری سے اترنا،
حدیث نمبر: Q976
فَرْقًا بَيْنَ الْفَرِيضَةِ وَالتَّطَوُّعِ فِي غَيْرِ الْمُسَابَقَةِ وَالْتِحَامِ الْقِتَالِ وَمُطَارَدَةِ الْعَدُوِّ
فرض اور نفل نماز میں فرق کہ وجہ سے، اگر وہ اس وقت کسی مقابلے میں شریک، دشمن سے گھمسان کی جنگ یا دشمن پر حملہ آور نہ ہو (کیونکہ ان صورتوں میں فرض نماز بھی سواری پر پڑھنا جائز ہے) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: Q976]
حدیث نمبر: 976
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ بِالإِسْكَنْدَرِيَّةَ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَكَانَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّرْقِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز اپنی سواری پر مشرق کی جانب منہ کر کے پڑھتے تھے۔ پھر جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو نیچے اُتر کر قبلہ رخ ہوکر پڑھتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ محمد بن ثوبان سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان ہے اس کی نسبت (باپ کے بجائے) اس کے دادا ثوبان کی طرف گئی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 400، 1094، 1099، وابن الجارود فى "المنتقى"، 251، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 976، 1263، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2521، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1554، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2254، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14493»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 976 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 976
فوائد:
➊ فرض نماز کے لیے قبلہ رخ ہونا فرض ہے۔
البتہ قبلہ کے عدمِ تعین کی صورت میں، اور حالتِ خوف میں قبلہ رو ہونا صحتِ نماز کی شرط نہیں۔
نیز نفلی نماز میں قبلہ رو ہونا شرط نہیں بلکہ جس طرف سواری کا رخ ہو اسی رخ نماز پڑھنا جائز ہے۔
➋ سواری پر نوافل ادا کرنا جائز ہیں، لیکن فرض نماز کے لیے سواری سے اترنا اور زمین پر قیام کرنا لازم ہے۔
➊ فرض نماز کے لیے قبلہ رخ ہونا فرض ہے۔
البتہ قبلہ کے عدمِ تعین کی صورت میں، اور حالتِ خوف میں قبلہ رو ہونا صحتِ نماز کی شرط نہیں۔
نیز نفلی نماز میں قبلہ رو ہونا شرط نہیں بلکہ جس طرف سواری کا رخ ہو اسی رخ نماز پڑھنا جائز ہے۔
➋ سواری پر نوافل ادا کرنا جائز ہیں، لیکن فرض نماز کے لیے سواری سے اترنا اور زمین پر قیام کرنا لازم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 976]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 976 in Urdu
محمد بن عبد الرحمن القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري