🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب بدء الوحى إِلى رسول الله ﷺ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنا کیونکر شروع ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
100 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ) إِلَى قَوْلِهِ: (وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ) فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غارِ حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی، اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذابِ الٰہی سے ڈرا، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر، اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ، اور گندگی سے دور رہ﴾ [سورة المدثر: 1-5] ، اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 1 كتاب بدء الوحى: 3 باب حدثنا يحيى ابن بكير»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ بڑے مجتہد اور امام تھے۔ ابوعبداللہ اور ابوعبدالرحمن کنیتیں تھیں۔ بدر کے علاوہ انیس غزوات میں شریک ہوئے۔ اپنے زمانہ میں مدینہ میں مفتی رہے۔ مسجد نبوی میں درس وتدریس اور افتاء کی مجلس لگایا کرتے تھے۔ آپ نے بڑھاپے کی عمر کو پایا اور آخر میں نابینے ہوگئے تھے۔ نوے سال کی زندگی پائی۔ اور ۷۴ ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔ ۱۵۴۰ احادیث کے راوی ہیں۔ کثرت سے حدیث رسول بیان فرمائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 100 in Urdu