🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب بدء الوحى إِلى رسول الله ﷺ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنا کیونکر شروع ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
101 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ عَنْ يَحْي بْنِ كَثِيرٍ، سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمنِ عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُلْتُ يَقُولُونَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَأَلْتُ جَابِرَ بنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ ذَلِكَ، وَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ، فَقَالَ جَابِرٌ لاَ أُحَدِّثكَ إِلاَّ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي هَبَطْتُ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ أَمَامِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا؛ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ شَيْئًا، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، قَالَ فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، قَالَ فَنَزَلَتْ (يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ)
یحییٰ بن کثیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی؟ ابو سلمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] (اے کپڑے میں لپٹنے والے)۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے تو خبر ملی ہے کہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] سب سے پہلے نازل ہوئی تھی، تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں وہی خبر دے رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے غارِ حراء میں تنہائی اختیار کی، جب میں وہ مدت پوری کر چکا اور نیچے اتر کر وادی کے بیچ میں پہنچا تو مجھے پکارا گیا، میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا اور مجھے دکھائی دیا کہ فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہے، پھر میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اڑھا دو اور میرے اوپر ٹھنڈا پانی ڈالو اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ ﴿٢﴾ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ [سورة المدثر: 1-3] (اے کپڑے میں لپٹنے والے! اٹھئے، پھر لوگوں کو عذابِ آخرت سے ڈرائیے اور اپنے پروردگار کی بڑائی کیجئے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 74 سورة المدثر: باب حدثنا يحيى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 101 in Urdu