🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب الإسراء برسول الله صلی اللہ علیہ وسلم إِلى السموات وفرض الصلوات
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور نمازوں کا فرض ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
102 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ عَنْ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِيءٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ: نَعَمْ مَعِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَوَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ: نَعَمْ؛ فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ، عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا آدَمُ، وَهذِهِ الأَسْوِدَةَ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ؛ فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الأَوَّلُ؛ فَفَتَحَ قَالَ أَنَسٌ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّموَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعيسَى وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ؛ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ قَالَ أَنَسٌ، فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ فَقُلْتُ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا إِدْرِيسُ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ؛ قُلْتُ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا مُوسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبَا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ؛ [ص:36] قُلْتُ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا عِيسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ؛ قُلْتُ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوَى أَسْمَعُ فِيهِ صَريفَ الأَقْلاَمِ، فَفَرَضَ اللهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: مَا فَرَضَ اللهُ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ: فَرَضَ خَمْسِينَ صَلاَةً، قَالَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعَنِي فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا؛ فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى انْتَهَى بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا حَبَايِلُ اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر کی چھت کھول دی گئی، اس وقت میں مکہ میں تھا، پھر جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اس کو میرے سینے میں رکھ دیا، پھر سینے کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے۔ جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا: ”کھولو۔“ اس نے پوچھا: ”آپ کون ہیں؟“ جواب دیا: ”جبریل۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟“ جواب دیا: ”ہاں، میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ انہوں نے پوچھا: ”کیا ان کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”جی ہاں۔“ پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا، ان کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے، جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکراتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے، انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بیٹے!“ میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں، جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں، اس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) روتے ہیں۔“ پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو، اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے داروغہ کی طرح پوچھا، پھر کھول دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر حضرات آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو موجود پایا اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانا بیان نہیں کیا، البتہ اتنا بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پہلے آسمان پر پایا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے فرمایا: ”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“ میں نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ جواب دیا: ”یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔“ پھر میں موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے فرمایا: ”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“ میں نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ جبریل علیہ السلام نے بتایا: ”یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔“ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے کہا: ”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“ میں نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ جبریل علیہ السلام نے بتایا: ”یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔“ پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے فرمایا: ”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بیٹے!“ میں نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ جبریل علیہ السلام نے بتایا: ”یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں۔“ پھر مجھے جبریل علیہ السلام لے کر چڑھے، اب میں اس بلند مقام تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلم کی آواز سنی (جو لکھنے والے فرشتوں کی قلموں کی آواز تھی)۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں، میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا، جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا: ”آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ نے کیا فرض کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔“ میں واپس بارگاہِ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اس میں سے ایک حصہ کم کر دیا، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے، پھر میں بارگاہِ رب العزت میں حاضر ہوا، پھر ایک حصہ کم ہوا، جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی۔ پھر میں بار بار آتا جاتا رہا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ نمازیں (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس (کے برابر) ہیں، میری بات بدلی نہیں جاتی۔“ اب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جاؤ، لیکن میں نے کہا: ”مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے۔“ پھر جبریل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں، اس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 1 باب كيف فرضت الصلاة: في الإسراء»
وضاحت: سدرۃ المنتہیٰ سے مراد بیری کا وہ درخت ہے جو جنت کے کنارے پر ہے جہاں پر پہلے اور پچھلے لوگوں کا علم ختم ہو جاتا ہے اور کوئی اس کے آگے تجاوز نہیں کر سکتا۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 102 in Urdu