اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب الأمر بالإيمان بالله ورسوله وشرائع الدين والدعاء إليه
باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم اور دین کے احکامات وشرائع اور اس کی دعوت دینا
حدیث نمبر: 11
11 صحيح حَدْيث ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذاً رضي الله عنه عَلى الْيَمنِ قَالَ: إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلى قَوْمِ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبادَةُ اللهِ، فَإِذَا عَرَفُوا اللهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَواتٍ في يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكاةً مِنْ أَمْوالِهِمْ وَتَردُّ عَلى فُقَرائِهِمْ فَإِذا أَطَاعُوا بِها فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرائِم أَمْوالِ النَّاسِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا: ”دیکھو! تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب (عیسائی، یہودی) ہیں، اس لیے سب سے پہلے انہیں اللہ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں (یعنی اسلام قبول کر لیں) تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ اسے بھی ادا کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض قرار دی ہے جو ان کے سرمایہ داروں سے لی جائے گی (جو صاحب نصاب ہوں گے) اور انہی کے فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی، جب وہ اسے بھی مان لیں تو ان سے زکاۃ وصول کرنا، البتہ ان کی عمدہ چیزیں (زکاۃ کے طور پر لینے سے) پرہیز کرنا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 11]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 41 باب لا تؤخذ كرائم أموال الناس في الصدقة»
وضاحت: راوي حدیث:… سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں ہجرت سے تین سال پہلے شعب بنی ہاشم میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ یا اللہ انہیں قرآن کا علم عطا فرما اور علم تفسیر سے بہرہ ور کر دے۔ انہوں نے ۱۷۷۰ احادیث روایت کی ہیں، جن میں سے ۷۵ متفق علیہ ہیں۔ علم تفسیر کی نشر واشاعت کے لیے مدرسہ قائم فرمایا تھا۔ ۶۸ہجری میں وفات پائی۔ ٭ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ تحفۃ الاحوذی میں فرماتے ہیں کہ ”میرے نزدیک ظاہر یہی ہے کہ صرف اسی صورت میں وہاں سے زکوٰۃ دوسری جگہ دی جائے جب وہاں مستحق لوگ نہ ہوں یا وہاں سے نقل کرنے میں کوئی مصلحت ہو جو بہت ہی اہم ہو اور زیادہ سے زیادہ نفع بخش ہو کہ وہ نہ بھیجنے کی صورت میں حاصل نہ ہو۔ ایسی حالت میں دوسری جگہ زکوٰۃ نقل کی جا سکتی ہے۔ “(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 11 in Urdu