🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب الأمر بالإيمان بالله ورسوله وشرائع الدين والدعاء إليه
باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم اور دین کے احکامات وشرائع اور اس کی دعوت دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10
10 صحيح حديث ابْنِ عَبّاس قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ قَالُوا: رَبِيعَةَ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزايا وَلاَ نَدَامَى فَقالُوا: يا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لاَ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلاَّ في الشَّهْرِ الْحَرامِ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذا الْحَيُّ مِنْ كُفّارِ مُضَرَ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنِ الأَشْرِبَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَمَرَهُمْ بِالإِيمانِ بِاللهِ وَحْدَهُ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الإِيمانُ بِاللهِ وَحْدَهُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهادَةُ أَنْ لاَ إِلهَ إِلاّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقامُ الصَّلاةِ وَإِيتاءُ الزَّكاةِ وَصِيامُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمغنَمِ الْخُمُسَ وَنَهاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالمُزَفَّتِ وَرُبَّما قَالَ المُقَيَّرِ وَقالَ: احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَراءَكُمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عبدالقیس کا وفد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس قوم کے لوگ ہیں؟“ یا ”یہ وفد کہاں کا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ربیعہ خاندان کے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ» (أَوْ «بِالْوَفْدِ») ”مرحبا (خوش آمدید) اس قوم کو یا اس وفد کو، نہ ذلیل ہونے والے نہ شرمندہ ہونے والے (یعنی ان کا آنا بہت خوب ہے)۔“ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں صرف ان حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا قبیلہ آباد ہے، پس آپ ہم کو ایک ایسی قطعی بات بتلا دیجیے جس کی خبر ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی کر دیں جو یہاں نہیں آئے اور اس پر عمل درآمد کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے برتنوں کے بارے میں بھی پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار قسم کے برتنوں کو استعمال میں لانے سے منع فرمایا۔ ان کو حکم دیا کہ: ”ایک اکیلے خدا پر ایمان لاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو ایک اکیلے خدا پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ہی معلوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا، اور مال غنیمت سے جو ملے اس کا پانچواں حصہ (مسلمانوں کے بیت المال میں) داخل کرنا۔“ نیز چار برتنوں کے استعمال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرمایا: «الْحَنْتَمِ» ”سبز لاکھی مرتبان“ سے، «الدُّبَّاءِ» ”کدو کے بنائے ہوئے برتن“ سے، «النَّقِيرِ» ”لکڑی کے کھودے ہوئے برتن“ سے اور «الْمُزَفَّتِ» ”روغنی برتن“ سے، اور فرمایا: ”ان باتوں کو حفظ کر لو اور ان لوگوں کو بھی بتلا دینا جو تم سے پیچھے ہیں اور یہاں نہیں آئے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 40 باب أداء الخمس من الإيمان»
وضاحت: ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ الحنتم، اس سے مراد سبز یا سرخ رنگ کے مٹکے اور گھڑے جن کی گردنیں پہلو پر ہوں یا جو مٹی، بال اور خون ملا کر بنائے گئے ہوں یا وہ لاکھ کے بنائے ہوئے گھڑے جو کانچ وغیرہ کا لیپ کیے گئے ہوں۔ الدباء: کدو کی تو نبی سے بنایا گیا برتن۔ النقیر: وہ برتن جو کھجور کی جڑ میں کھدائی کر کے بنایا گیا ہو اس میں شراب محفوظ کی جاتی ہے۔ المزفت: جو رال کا لیپ کیا گیا ہو۔ (تار کول لگا برتن) المقیر: جو قار کا لیپ کیا گیا ہو۔ اسے قیر بھی کہتے ہیں اور قار سے مراد ایک بوٹی ہے جو خشک ہونے پر جلائی جاتی ہے اور اس سے رال کی طرح کشتیاں وغیرہ لیپ کی جاتی ہیں۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11
11 صحيح حَدْيث ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذاً رضي الله عنه عَلى الْيَمنِ قَالَ: إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلى قَوْمِ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبادَةُ اللهِ، فَإِذَا عَرَفُوا اللهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَواتٍ في يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكاةً مِنْ أَمْوالِهِمْ وَتَردُّ عَلى فُقَرائِهِمْ فَإِذا أَطَاعُوا بِها فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرائِم أَمْوالِ النَّاسِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا: ”دیکھو! تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب (عیسائی، یہودی) ہیں، اس لیے سب سے پہلے انہیں اللہ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں (یعنی اسلام قبول کر لیں) تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ اسے بھی ادا کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض قرار دی ہے جو ان کے سرمایہ داروں سے لی جائے گی (جو صاحب نصاب ہوں گے) اور انہی کے فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی، جب وہ اسے بھی مان لیں تو ان سے زکاۃ وصول کرنا، البتہ ان کی عمدہ چیزیں (زکاۃ کے طور پر لینے سے) پرہیز کرنا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 11]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 41 باب لا تؤخذ كرائم أموال الناس في الصدقة»
وضاحت: راوي حدیث:… سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں ہجرت سے تین سال پہلے شعب بنی ہاشم میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ یا اللہ انہیں قرآن کا علم عطا فرما اور علم تفسیر سے بہرہ ور کر دے۔ انہوں نے ۱۷۷۰ احادیث روایت کی ہیں، جن میں سے ۷۵ متفق علیہ ہیں۔ علم تفسیر کی نشر واشاعت کے لیے مدرسہ قائم فرمایا تھا۔ ۶۸ہجری میں وفات پائی۔ ٭ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ تحفۃ الاحوذی میں فرماتے ہیں کہ ”میرے نزدیک ظاہر یہی ہے کہ صرف اسی صورت میں وہاں سے زکوٰۃ دوسری جگہ دی جائے جب وہاں مستحق لوگ نہ ہوں یا وہاں سے نقل کرنے میں کوئی مصلحت ہو جو بہت ہی اہم ہو اور زیادہ سے زیادہ نفع بخش ہو کہ وہ نہ بھیجنے کی صورت میں حاصل نہ ہو۔ ایسی حالت میں دوسری جگہ زکوٰۃ نقل کی جا سکتی ہے۔ “(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12
12 صحيح حديث ابْنُ عَبّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعاذًا إِلى الْيَمَنِ فَقالَ: اتَّقِ دَعْوَةَ المَظْلُومِ فَإِنَّها لَيْسَ بَيْنَها وَبَيْنَ اللهِ حِجابٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب (عامل بنا کر) یمن بھیجا تو آپ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ ”مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 46 كتاب المظالم: 9 باب الاتقاء والحذر من دعوة المظلوم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں