🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
599. باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا نورث ما تركنا فهو صدقة
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’ہمارے ترکے کا کوئی وارث نہیں بلکہ وہ صدقہ ہے‘‘
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1148
1148 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ نَورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیویوں نے چاہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی میراث طلب کرنے کے لیے بھیجیں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یاد دلایا: کیا آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ”ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے“؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1148]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 85 كتاب الفرائض: 3 باب قول النبي صلي الله عليه وسلم: لا نورث ما تركنا صدقة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1148 in Urdu