اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
599. باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا نورث ما تركنا فهو صدقة
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’ہمارے ترکے کا کوئی وارث نہیں بلکہ وہ صدقہ ہے‘‘
حدیث نمبر: 1149
1149 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهِا السَّلاَمُ، بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيَراثَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هذَا الْمَالَ وَإِنِّي، وَاللهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَان عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلاً، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: أَنِ ائْتِنَا، وَلاَ يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ (كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ) فَقَالَ عُمَرُ: لاَ، وَاللهِ لاَ تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسِيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي وَاللهِ لآتِيَنَّهُمْ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللهُ، وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللهُ إِلَيْكَ، وَلكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى، لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَصِيبًا حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هذِهِ الأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ، رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ، وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعَذَ ْرهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ، نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلاَ إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللهُ بِهِ، وَلكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هذَا الأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا: أَصَبْتَ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا، حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور اپنی میراث کا مطالبہ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا: ”ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے، البتہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال سے کھاتی رہے گی۔“ اور میں اللہ کی قسم! جو صدقہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا، جس حال میں وہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں (اس کی تقسیم وغیرہ میں) میں بھی وہی طرزِ عمل اختیار کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترکِ ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں، جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھ لی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے، لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں، اس وقت انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی، پھر انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں، ان کو یہ منظور نہ تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے؟ میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کے پاس جاؤں گا۔ آخر آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو گواہ کیا، اس کے بعد فرمایا: آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے، سب کا ہمیں اقرار ہے، جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی (کہ خلافت کے معاملے میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے (کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے)۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گیا اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے زیادہ عزیز ہے، لیکن میرے اور آپ لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ میں نے کیا ہے اس کا باعث سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے اس فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا، یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملۂ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے (کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا) ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کر لی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1149 in Urdu