اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
601. باب إِجلاء اليهود من الحجاز
باب: یہودیوں کو حجاز سے نکال دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1154
1154 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَارَبَتِ النَّضِيرُ وَقُرَيْظَةُ، فَأَجْلَى بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلاَدَهُمْ وَأَمْوالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلاَّ بَعْضَهُمْ، لَحِقُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ، بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِ الْمَدِينَةِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (معاہدہ توڑ کر) لڑائی مول لی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا لیکن قبیلہ بنو قریظہ کو جلا وطن نہیں کیا اور اس طرح ان پر احسان فرمایا، پھر بنو قریظہ نے بھی جنگ مول لی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کروا دیا اور ان کی عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ صرف بعض بنی قریظہ اس سے الگ قرار دیے گئے تھے کیونکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آ گئے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا تھا۔ بنو قینقاع کو بھی جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا، یہود بنی حارثہ کو اور مدینہ کے تمام یہودیوں کو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1154]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 14 باب حديث بني النضير»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1154 in Urdu