اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
601. باب إِجلاء اليهود من الحجاز
باب: یہودیوں کو حجاز سے نکال دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1153
1153 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ، يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ: ذلِكَ أُرِيدُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ، يَا أَبَا الْقَاسِمِ ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ؛ فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنَّ الأَرْضَ للهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلاَّ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ للهِ وَرَسُولِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”یہودیوں کے پاس چلو۔“ ہم آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب ہم «بَيْتُ الْمِدْرَاسِ» ”بیت المدراس“ کے پاس پہنچے تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی: ”اے قومِ یہود! «أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا» ”اسلام لاؤ تم محفوظ ہو جاؤ گے۔““ یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بھی یہی مقصد ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اور یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی فرمایا اور پھر فرمایا: ”تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں جلاوطن کرتا ہوں۔ پس تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہیے کہ جلاوطن ہونے سے پہلے اسے بیچ دے، ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1153]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 89 كتاب الإكراه: 2 باب في بيع المكره ونحوه في الحق وغيره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1154
1154 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَارَبَتِ النَّضِيرُ وَقُرَيْظَةُ، فَأَجْلَى بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلاَدَهُمْ وَأَمْوالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلاَّ بَعْضَهُمْ، لَحِقُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ، بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِ الْمَدِينَةِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (معاہدہ توڑ کر) لڑائی مول لی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا لیکن قبیلہ بنو قریظہ کو جلا وطن نہیں کیا اور اس طرح ان پر احسان فرمایا، پھر بنو قریظہ نے بھی جنگ مول لی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کروا دیا اور ان کی عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ صرف بعض بنی قریظہ اس سے الگ قرار دیے گئے تھے کیونکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آ گئے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا تھا۔ بنو قینقاع کو بھی جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا، یہود بنی حارثہ کو اور مدینہ کے تمام یہودیوں کو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1154]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 14 باب حديث بني النضير»
الحكم على الحديث:
«صحیح»